پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے بیس بال فیڈریشن آف پاکستان کے سیکرٹری سید فخر شاہ پر سخت کارروائی کرتے ہوئے ان پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی لگا دی ہے۔
پی ایس بی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، سید فخر شاہ بارہا اسپورٹس بورڈ کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، جس کی بناء پر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ بغیر این او سی (NOC) کے کوئی بھی کھلاڑی یا آفیشل ملک سے باہر کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت نہیں کر سکتا، تاہم فخر شاہ نے اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹیموں کی بیرونِ ملک روانگی میں نہ صرف سہولت فراہم کی بلکہ اس کے لیے پی ایس بی سے اجازت بھی نہیں لی۔
مزید انکشاف کیا گیا کہ پاکستان بیس بال فیڈریشن نے اگست میں ملائیشیا اور چائنیز تائی پے میں ہونے والی تقریبات میں شرکت کی، اور اس دوران وزارتِ خارجہ کا جعلی این او سی پیش کیا گیا۔ اس معاملے پر فخر شاہ کو 9 ستمبر کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا، مگر ان کا جواب پی ایس بی کے مطابق غیر تسلی بخش رہا۔
نتیجتاً، سید فخر شاہ اب کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری کھیلوں کی سرگرمی میں شرکت کے اہل نہیں ہوں گے۔ البتہ، پی ایس بی کا کہنا ہے کہ انہیں 30 دن کے اندر اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سید فخر شاہ پی ایس بی کیا گیا

پڑھیں:

بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔

ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت