اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے  کہا کہ پاکستان نے معاشی  محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جرمن کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔ جرمن سفیر اِنا لیپل کی قیادت میں سرمایہ کاروں اور تاجروں کے وفد نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی، جس میں وزیر خزانہ نے پاکستان کے معاشی استحکام اور اصلاحاتی پالیسی پر روشنی ڈالی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب مضبوط بنیادوں پر استحکام کی جانب گامزن ہے۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ڈھائی ماہ کی درآمدات کے برابر ہو چکے ہیں اور مالی سال کے اختتام تک یہ تین ماہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اسی طرح افراط زر کی شرح 5 سے 7 ات فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی ہے جبکہ پالیسی ریٹ میں کمی سے کاروباری لاگت میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں عالمی ریٹنگ ایجنسیوں فچ، ایس اینڈ پی اور موڈیز نے پاکستان کا ریٹنگ آؤٹ لک بہتر کیا ہے۔  مالی سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 10.

2 فیصد سے بڑھا کر 11 فیصد کرنے کا ہدف ہے۔ اسی طرح ٹیکس وصولیوں کی شرح کو 13 فیصد تک لے جایا جائے گا۔ وفد کو تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ 34 سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے سپرد کردیے ہیں، جہاں عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کے لیے 4 بڑی غیر ملکی کمپنیاں مستعد ہیں۔ پاکستان جلد ہی چینی منڈی میں اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کرے گا۔ یورو بانڈ مارکیٹ میں دوبارہ واپسی کے منصوبے پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ غیر ملکی کمپنیوں کے منافع اور ڈیویڈنڈ کی منتقلی کے مسائل خوش اسلوبی سے حل ہو رہے ہیں۔  سی پیک کے دوسرے مرحلے میں اہم پیش رفت ہوئی۔ چوبیس مشترکہ منصوبوں پر دستخط ہوئے۔ چینی سرمایہ کاری کے مواقع زیر غور ہیں۔ ڈیجیٹل اکانومی میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ جولائی تک تمام پیمنٹس ڈیجیٹلائز کی جائیں گی۔ پاکستان کیلئے امریکی ٹیرف دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ فریم ورک معاہدے کے بعد مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا۔ ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کی بقاء کا مسئلہ بن چکا ہے۔ سیلاب سے زرعی شعبہ متاثر ہوا۔ فصلوں کو نقصان پہنچا۔ سیلاب کی وجہ سے معاشی ہدف  چار فیصد حاصل کرنا مشکل ہے۔ پر امید  ہیں رواں مالی سال 3.5 فیصد شرح نمو حاصل کر لیں گے۔ پاکستان کو معاشی محاذ پر اہم کامیابیاں ملیں۔ مہنگائی اب سنگل ڈیجیٹ پر آ گئی ہے۔ معاشی استحکام‘ زرمبادلہ ذخائر میں بہتری آئی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب اور سموگ کی فریکوئنسی بڑھتی جا رہی ہے۔ تعمیر نو کیلئے ضررت پڑتی ہے تو ہو سکتا ہے ہم عالمی اداروں کے پاس جائیں۔ ایک سوچ یہ بھی ہے کہ کوئی گرانٹ آتی ہے تو وہ لے لینی چاہئے۔ گزشتہ سال ہول سیل اور ریٹیلرز سے ٹیکس کلیکشن سو فیصد بڑھی۔ کوشش ہے کہ مستقبل میں دیگر سیلریڈ کلاسز کو بھی ریلیف دیں۔ چینی کی قیمتوں پر کوشش ہے کہ ڈی ریگولیشن کی طرف جائیں۔ گندم کی قیمت سے متعلق 2026ء میں ڈی ریگولیشن پالیسی کا اعلان ہوگا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت(Gold Rates) مسلسل دوسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,030.09 ڈالر فی اونس رہ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کم ہو کر 4,033.20 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا ہفتہ وار بنیاد پر معمولی اضافے کی جانب گامزن ہے، تاہم بلند شرح سود کے خدشات کے باعث اس کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔

مزیدپڑھیں:پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ

 ماہرین کا کہنا ہے کہ جب شرح سود میں اضافے کی توقع ہوتی ہے تو سونے جیسی ایسی سرمایہ کاری، جس پر منافع یا سود نہیں ملتا، نسبتاً کم پرکشش ہو جاتی ہے۔

سرمایہ کاروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کی توقع ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی، تاہم ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بدستور مضبوط سمجھے جا رہے ہیں

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ