وزیر خزانہ سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات، ترقیاتی شراکت داری پر برطانیہ سے اظہارِ تشکر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
فائل فوٹو۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے اسلام آباد میں ملاقات کی، اس موقع پر اقتصادی و ترقیاتی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے برطانیہ کے دیرینہ ترقیاتی شراکت داری پر اظہارِ تشکر کیا۔ انھوں نے ڈیجیٹلائزیشن، پبلک فنانشل منیجمنٹ اور ماحولیاتی استحکام میں برطانوی تعاون کو سراہا۔
وزیر خزانہ نے بارونس جینی چیپمین سے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیا اور کہا پاکستان اب اقتصادی استحکام کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ تینوں عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے تین سال بعد پاکستان کی آؤٹ لک بہتر کی، انھوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے سے اصلاحاتی پیشرفت سے بھی برطانوی ہائی کمشنر کو آگاہ کیا۔
محمد اورنگزیب نے کہا آئندہ چار سے پانچ برس میں اضافی کسٹم ڈیوٹی میں بتدریج کمی کی جائے گی، نجکاری کے عمل میں ملکی بزنس گروپس کی شمولیت خوش آئند ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس چوری روکنے کیلیے اے آئی مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، حکومت نے ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے الگ کر دیا ہے اور فنانس ڈویژن سیکٹر وار مشاورتی نظام تشکیل دے گا۔
اس موقع پر برطانوی ہائی کمشنر نے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور مالی نظام میں پیشرفت کو سراہا۔ برطانوی ہائی کمشنر نے 14 سال بعد بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: برطانوی ہائی کمشنر
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔