نادرا کے تعاون سے پاک آئی ڈی ایپ پر فنگر پرنٹس کی تصدیق کا نیا نظام متعارف
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک :محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے نادرا کے تعاون سے پاسپورٹ کے حصول کے خواہشمند شہریوں کی سہولت کے لیےاب فنگر پرنٹس ویریفیکیشن پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے ممکن بنادی ہے۔
ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے مطابق پاسپورٹ کے حصول کے خواہشمند درخواست گزاروں کے لیے ایسی سہولت متعارف کرائی ہے جس کے تحت فنگر پرنٹس ویریفیکیشن کا مرحلہ آسان بناتے ہوئے نیا نظام متعارف کرا دیا گیا ہے۔
جعلی ملازمتوں کی پیشکش، ایف آئی اے نے بیرون ملک جانے والوں کو خبردار کردیا
اب شہری آن لائن بھی پاسپورٹ کی درخواست جمع کرواسکتے ہیں، تاہم اگر فنگرپرنٹس کی تصدیق میں مسئلہ درپیش ہو تو چہرے کی تصدیق کی سہولت بھی موجود ہے۔
ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک اعلامیے میں درخواست گزاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نادرا پاسپورٹ کی درخواست جمع کروانے کے لیے آن لائن ویب پورٹل پر جائیں۔
’فنگرپرنٹس کے مرحلے میں پہنچنے پر پاک آئی ڈی موبائل ایپ لاگ ان کریں، بائیو میٹرک ویریفکیشن کے سیکشن میں آن لائن پاسپورٹ منتخب کریں، اس کے بعد اپنا پاسپورٹ ٹریکنگ آئی ڈی اور شناختی کارڈ نمبر درج کریں اور ایپ کے ذریعے اپنے چہرے اور فنگر پرنٹس کی تصدیق کروائیں۔‘
اس سال اب تک سب سے زیادہ فروخت ہونیوالا اسمارٹ فون کونسا ہے؟
مذکورہ ہدایت نامے کے مطابق، تصدیق مکمل ہونے کے بعد ایک پیغام ظاہر ہوگا اور درخواست گزاروں کو ویب پورٹل کے ذریعے درخواست جمع کروانے کی ہدایت دی جائے گی، بقیہ کارروائی مکمل کرتے ہوئے درخواست جمع کروائی جاسکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔