فیشن ڈیزائنر نومی انصاری کیخلاف ٹیکس فراڈ مقدمے میں اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
فیشن ڈیزائنر نومی انصاری کیخلاف ٹیکس فراڈ کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں فیشن ڈیزائنر نومی انصاری کیخلاف ٹیکس فراڈ کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔
سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ نومی انصاری و دیگر کیخلاف بطور ریٹیلر فروخت کم ظاہر کرنے اور ٹیکس فراڈ کا الزام ہے۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی بنیاد پر درخواستگزار کیخلاف مقدمہ درج نہیں کیا جاسکتا اور غیر قانونی تلاشی کے ذریعے حاصل کئے گئے دستاویزات کو بطور شواہد استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ ایسا غیر معمولی کیس نہیں ہے کہ جس میں متبادل فورم کو نظر انداز کیا جائے۔
عدالت نے نومی انصاری کی مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کردی۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ درخواستگزار ٹرائل کورٹ میں بریت کی درخواست دائر کرسکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نومی انصاری کی کی درخواست ٹیکس فراڈ
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔