Express News:
2026-07-24@08:04:41 GMT

وائیڈ بال سے متعلق آئی سی سی کا نئے قانون کا تجربہ

اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے کرکٹ میں نئی تبدیلی کردی گئی۔

آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان پرتھ میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے کے دوران وکٹ کے دونوں جانب وائیڈ لائنز اور اسٹمپ کے درمیان نمایاں نیلے رنگ کی نئی لکیروں نے شائقین کو حیرت میں مبتلا کردیا۔

اسی طرح کی نئی لکیریں میرپور میں بنگلادیش اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلے ون ڈے میں بھی دیکھی گئیں جو اس سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ میں کبھی نظر نہیں آئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں وائیڈ بال سے متعلق قانون میں جلد تبدیلی کی جا رہی ہے اور اسی سلسلے میں آئی سی سی نے لیگ اسٹمپ کے قریب وائیڈ بال کے نئے قانون کا تجربہ شروع کردیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ قانون فی الحال چھ ماہ کے ٹرائل مرحلے میں ہے اور اگر تجربہ کامیاب رہا تو اسے وائٹ بال کرکٹ میں باضابطہ طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔

پرانا قانون:

وائیڈ بال کے پرانے قانون کے مطابق اگر کوئی بھی گیند لیگ اسٹمپ پہ جاتی تھی تو اسے وائیڈ قرار دیا جاتا تھا۔ اس قانون سے بیٹرز کو زیادہ فائدہ ہوتا تھا اور بولرز کے پاس غلطی کی گنجائش انتہائی کم ہوتی تھی۔

نیا قانون:

نئے قانون کے تحت لیگ اسٹمپ کے قریب نئی لکیریں لیگ سائیڈ پہ جانے والی وائیڈ بال کا تعین کریں گی۔ یہ لکیریں لیگ اسٹمپ کے قدرے قریب بنائی گئی ہیں تاکہ وائیڈ بال سے متعلق قانون کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔

کوئی بھی گیند جو لیگ سائیڈ پر لکیر کے اندر سے گزرے  گی، اسے وائیڈ قرار نہیں دیا جائے گا، صرف لکیر سے باہر نکل جانے والی گیند ہی وائیڈ کہلائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وائیڈ بال لیگ اسٹمپ اسٹمپ کے کرکٹ میں

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن