Daily Mumtaz:
2026-06-03@03:21:33 GMT

کرکٹر صہیب مقصود کو 9 ماہ بعد اپنی گاڑی واپس مل گئی

اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT

کرکٹر صہیب مقصود کو 9 ماہ بعد اپنی گاڑی واپس مل گئی

قومی کرکٹر صہیب مقصود کو بالآخر 9 ماہ بعد اپنی گاڑی واپس مل گئی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں صہیب مقصود نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے گاڑی واپس دلوانے میں ان کی مدد کی۔
صہیب نے کہا، “میں دل کی گہرائیوں سے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کا شکر گزار ہوں، جن کی مدد سے میری گاڑی واپس آئی۔ ہمیشہ سچ کی جیت ہوتی ہے، الحمدللہ۔”
انہوں نے آر پی او ملتان اور سی پی او ملتان کا بھی شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے اس معاملے میں فوری کارروائی کی اور انصاف دلایا۔
صہیب مقصود نے مزید بتایا کہ پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس کے حکام گزشتہ تین چار دنوں سے ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور انصاف کا حصول ممکن بنایا۔
یاد رہے کہ صہیب مقصود کے ساتھ گاڑی فروخت کرنے کے دوران فراڈ کا واقعہ پیش آیا تھا، جس پر انہوں نے پنجاب حکومت سے مدد کی اپیل کی تھی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: صہیب مقصود گاڑی واپس

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور