کرکٹر صہیب مقصود کو 9 ماہ بعد اپنی گاڑی واپس مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
قومی کرکٹر صہیب مقصود کو بالآخر 9 ماہ بعد اپنی گاڑی واپس مل گئی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں صہیب مقصود نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے گاڑی واپس دلوانے میں ان کی مدد کی۔
صہیب نے کہا، “میں دل کی گہرائیوں سے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کا شکر گزار ہوں، جن کی مدد سے میری گاڑی واپس آئی۔ ہمیشہ سچ کی جیت ہوتی ہے، الحمدللہ۔”
انہوں نے آر پی او ملتان اور سی پی او ملتان کا بھی شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے اس معاملے میں فوری کارروائی کی اور انصاف دلایا۔
صہیب مقصود نے مزید بتایا کہ پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس کے حکام گزشتہ تین چار دنوں سے ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور انصاف کا حصول ممکن بنایا۔
یاد رہے کہ صہیب مقصود کے ساتھ گاڑی فروخت کرنے کے دوران فراڈ کا واقعہ پیش آیا تھا، جس پر انہوں نے پنجاب حکومت سے مدد کی اپیل کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صہیب مقصود گاڑی واپس
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔