وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا صوبائی ایئرلائن ‘ایئر پنجاب’ کو جلد از جلد فعال کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبائی ایئرلائن ‘ایئر پنجاب’ کو جلد از جلد فعال کرنے کا حکم دے دیا۔
انہوں نے ایئر پنجاب کے فیز1 کے لیے کارروائی فوری طور پر مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس پراجیکٹ کے لیے جدید اور آرام دہ طیارے لیز پر حاصل کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایئر پنجاب کی پہلی پرواز کب اڑان بھرے گی؟ مریم اورنگزیب نے بتادیا
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایئر پنجاب پراجیکٹ پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ کو ایئرلائن کے منصوبے سے متعلق بریفنگ دی گئی اور لاہور سے اسلام آباد کو ایئر پنجاب کے پہلے فلائٹ روٹ کے طور پر شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اسی اجلاس میں مری گلاس ٹرین پراجیکٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مری گلاس ٹرین پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں تاکہ سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
air punjab ایئر پنجاب مریم نواز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئر پنجاب مریم نواز ایئر پنجاب وزیر اعلی مریم نواز کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔