اسلام آباد: ڈپلومیٹک انکلیو میں جدید پیڈل ٹینس کورٹ اور فٹنس ایرینا کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ڈپلومیٹک انکلیو میں جدید پیڈل ٹینس کورٹ اور فٹنس ایرینا کا افتتاح کردیا، جسے دارالحکومت میں کھیل اور تفریحی سرگرمیوں کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی چوہدری سالک حسین، سینیٹر فیصل سلیم، چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا اور قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر بھی شریک ہوئیں۔
تقریب کے دوران وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے امریکی سفیر، چوہدری سالک حسین اور چیئرمین سی ڈی اے کے ہمراہ پیڈل ٹینس کھیل کر افتتاحی سرگرمی میں عملی طور پر حصہ لیا۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ڈپلومیٹک کمیونٹی کے لیے صحت مند اور معیاری تفریحی سہولتیں فراہم کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔ کھیل اور صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ یہ نہ صرف جسمانی تندرستی بلکہ سفارتی تعلقات میں مثبت فضا پیدا کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔
محسن نقوی نے بتایا کہ ڈپلومیٹک انکلیو کی تزئین و آرائش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جو جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈپلومیٹک کمیونٹی کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ اسلام آباد میں ان کا قیام زیادہ آرام دہ، خوشگوار اور محفوظ بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسلام آباد کو عالمی معیار کا دارالحکومت بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے شہری سہولتوں کے ساتھ ساتھ تفریحی اور ثقافتی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کی مہمان نوازی اور خوش اخلاقی کو ملک کی پہچان قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھیل، ثقافت اور میل جول کے ایسے مواقع عوام اور سفارتی برادری کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں۔
تقریب میں چیئرمین سی ڈی اے، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جنہوں نے حکومت کے اس اقدام کو شہر کی سافٹ امیج پالیسی کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ حکومت دارالحکومت میں ایسے منصوبوں کے ذریعے سفارتی حلقوں کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنانا چاہتی ہے، کیونکہ کھیل اور ثقافت وہ زبان ہیں جو دنیا کے ہر کونے میں سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلام آباد نہ صرف پاکستان کا انتظامی مرکز ہے بلکہ اسے دنیا کے بہترین دارالحکومتوں کی صف میں شامل کرنا حکومت کا واضح ہدف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محسن نقوی نے اسلام آباد انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔