بلوچستان کے عوام کو ترقی میں برابر شریک کرنا ہوگا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
صوبے ایک خاندان، بلوچستان کی ترقی پاکستان کی مجموعی خوشحالی سے جڑی ہے،شہباز شریف
پورا پاکستان ایک فیملی،کہیں بھی آگ لگے اسے مل کر بجھانا ہوگا، ورکشاپ کے شرکا سے خطاب
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پورا پاکستان ایک گھرانہ ہے، کہیں بھی آگ لگے اسے مل کر بجھانا اور محبت ، ایثار اور قربانی سے کام لے کر امن ترقی اور خوشحالی کو مشعل راہ بنانا ہے، اسی طرح پاکستان ایک عظیم ملک بنے گا، 2018 میں ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہوگیا تھا پھر حالات کیوں بگڑے، فاصلے کیوں پیدا ہوئے، ان چبھتے ہوئے سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو یہاں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر وفاقی وزرا ، ارکان اسمبلی ، اہل دانش اور سرکاری افسران کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان ملک کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، بلوچ رہنمائوں نے رضا کارانہ طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کا تاریخی فیصلہ کیا تھا، اس صوبے کی تاریخ ، ثقافت اور روایات اسے منفرد بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے، افسوس کہ بلوچستان کی دولت اب بھی زمین کے اندر دفن ہے اور اسے نکالا نہیں جاسکا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پھیلا ہوا صوبہ ہے جہاں بلوچ اور پختون سمیت مختلف برادریاں اور قبائل آباد ہیں، ان میں دیرپا ہم آہنگی قائم رہی، بلوچ عوام ہمیشہ کشادہ دل اور مہمان نواز رہے ہیں ،پنجابی مہاجرین سمیت سب عرصہ دراز سے مل کر ہم آہنگی کیساتھ رہتے رہے ، بلوچستان کی روایات اور ثقافت قابل فخر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔