اسلام آباد (صغیر چوہدری) — آپریشن بنیانُ المرصوص میں پاکستان کے ہاتھوں ناکامی کے بعد بھارت کو ایک اور بڑی سفارتی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف کی سخت دھمکی کے بعد بھارت نے روس سے تیل کی خریداری مکمل طور پر بند کر دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں واضح طور پر تصدیق کی کہ “بھارت اب روس سے تیل نہیں خرید رہا۔” امریکی صدر اس سے قبل بھی کئی بار نئی دہلی کو خبردار کر چکے تھے کہ اگر روسی خام تیل کی درآمد جاری رہی تو بھارت کو بھاری ٹیرف اور معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق، ابتدائی طور پر بھارت نے امریکی دباؤ کے تحت روس سے تیل کی درآمد آدھی کر دی تھی، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس اقدام کو ناکافی قرار دیا۔ اس کے بعد بھارتی حکومت نے روس سے تیل کی خریداری مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی کی نشاندہی کرتا ہے۔ مختلف بین الاقوامی فورمز پر اسے سفارتی طور پر مشکلات کا سامنا ہے، جب کہ دوسری جانب پاکستان سفارتی، تجارتی اور دفاعی محاذوں پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِاعظم میاں شہباز شریف عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو بھرپور انداز میں پیش کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان کا وقار بین الاقوامی برادری میں مزید مضبوط ہو رہا ہے، جبکہ بھارت عالمی سفارتکاری کے میدان میں تنہائی اور دباؤ کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے بعد بھارت روس سے تیل تیل کی

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش