وفاقی وزیر داخلہ کی برطانوی ہائی کمشنر اور امریکی ناظم الامور سے ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے برطانوی ہائی کمشنر جین میریئٹ اور امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں جن میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی امور اور باہمی دلچسپی کے شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارت داخلہ کے ملاقات اتوار کو ہونے والی ان ملاقاتوں میں پاکستان کی جانب سے برطانیہ اور امریکا دونوں کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کو اجاگر کیا گیا۔
وزیرداخلہ محسن نقوی/ بڑی ملاقاتیں
وفاقی وزیرداخلہ
محسن نقوی سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اور قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی الگ الگ ملاقاتیں
ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات۔خطے کی مجموعی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال pic.
— Ministry of Interior GoP (@MOIofficialGoP) October 26, 2025
برطانیہ کے ساتھ تعلقات کو 5 سال کے وقفے کے بعد فضائی آپریشنز کی بحالی اور اسلام آباد میں نئے سینٹر آف ایکسی لینس کے افتتاح جیسے اقدامات کے ذریعے ازسرِنو فعال کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، امریکا کے ساتھ روابط سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔
وزارت داخلہ کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق، بات چیت کے دوران دونوں جانب سے منشیات کے خلاف کارروائی، انسانی اسمگلنگ اور سیکیورٹی کے معاملات میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ محسن نقوی نے برطانیہ کی حکومت اور ہائی کمشنر جین میریئٹ کا پانچ سال کے وقفے کے بعد فضائی آپریشن کی بحالی پر شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا 5 سال بعد برطانیہ کے لیے فلائٹ آپریشن بحال ہوگیا اور اسلام آباد سے پہلی پرواز 350 مسافروں کو لے کر مانچسٹر روانہ ہوگئی۔
قومی ایئرلائن نے برطانیہ کے لیے پروازیں اس وقت شروع کیں جب اسے تھرڈ کنٹری آپریٹر کی منظوری ملی۔ دوسرے مرحلے میں پروازوں کا دائرہ برمنگھم اور لندن تک بڑھایا جائے گا۔
جولائی میں برطانیہ نے پاکستان کو اپنی ‘ایئر سیفٹی لسٹ‘ سے نکال دیا تھا، جس کے بعد پاکستانی ایئرلائنز کو برطانیہ میں پروازوں کے لیے درخواست دینے کی اجازت ملی تھی۔
ادھر، دونوں سفیروں نے پاک بحریہ کی حالیہ انسدادِ منشیات کارروائی کی بھی تعریف کی۔
23 اکتوبر کو پاک بحریہ کے جہاز ’یَرموک‘ نے عرب سمندر میں دو بادبانی کشتیوں سے 972 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی منشیات برآمد کی تھیں۔
کمبائنڈ میری ٹائم فورس (جو امریکی بحریہ سمیت مختلف ممالک کی شراکت داری ہے) کے مطابق پاکستانی بحری جہاز نے 48 گھنٹوں کے اندر دو مختلف کشتیوں کو روکا۔
برطانوی ہائی کمشنر جین میریئٹ نے وزیر داخلہ کو بتایا کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ڈائریکٹر جنرل آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے، اس دوران امیگریشن اور انسدادِ منشیات کے شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔
وزیر داخلہ نقوی نے برطانوی ہائی کمیشن کی معاونت سے قائم سینٹر آف ایکسی لینس جیسے منصوبوں کو پاکستانی اداروں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان اور برطانیہ کے درمیان باہمی قانونی معاونت اور حوالگی کے معاملات میں تعاون کو مزید مضبوط کرے گا۔
برطانوی ہائی کمشنر نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے فروغ کے لیے برطانیہ کے عزم کو دہرایا، جبکہ وزیر داخلہ نقوی نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے پاکستان کے عزم کو دہرایا۔
دوسری جانب، امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں مسلسل تعاون کا عہد کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: برطانوی ہائی کمشنر ہائی کمشنر جین وزیر داخلہ برطانیہ کے محسن نقوی کے شعبوں کے ساتھ نقوی نے کے لیے
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ