لاہور میں اسموگ: دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: سٹی ٹریفک پولیس لاہور کا اسموگ کے پیش نظردھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے ۔
ٹریفک پولیس کے مطابق بغیرفٹنس سرٹیفیکیٹ کمرشل گاڑیوں کا لاہور میں داخلہ ممنوع ہے ۔جبکہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں اور مختلف مقامات پراسپیشل ٹیمیں تعینات کردی گئیں۔رواں ماہ 13 ہزار سے زائد دھواں چھوڑنے اور اسموگ کا باعث بننے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی گئی ۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں،مختلف مقامات پراسپیشل ٹیمیں تعینات ہیں ۔
سی ٹی او لاہور کا کہنا تھا کہ بغیرفٹنس سرٹیفیکیٹ کوئی بھی گاڑی شہر میں داخل نہیں ہو سکتی ۔ رواں ماہ اٹھارہ ہزار پانچ سو کے قریب بغیر فٹنس سرٹیفیکیٹ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی گئی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گاڑیوں کے خلاف
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔