لاہور میں اسموگ: دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: سٹی ٹریفک پولیس لاہور کا اسموگ کے پیش نظردھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے ۔
ٹریفک پولیس کے مطابق بغیرفٹنس سرٹیفیکیٹ کمرشل گاڑیوں کا لاہور میں داخلہ ممنوع ہے ۔جبکہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں اور مختلف مقامات پراسپیشل ٹیمیں تعینات کردی گئیں۔رواں ماہ 13 ہزار سے زائد دھواں چھوڑنے اور اسموگ کا باعث بننے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی گئی ۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں،مختلف مقامات پراسپیشل ٹیمیں تعینات ہیں ۔
سی ٹی او لاہور کا کہنا تھا کہ بغیرفٹنس سرٹیفیکیٹ کوئی بھی گاڑی شہر میں داخل نہیں ہو سکتی ۔ رواں ماہ اٹھارہ ہزار پانچ سو کے قریب بغیر فٹنس سرٹیفیکیٹ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی گئی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گاڑیوں کے خلاف
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔