Daily Mumtaz:
2026-06-03@08:08:01 GMT

میں اپنے بچے کے ڈائپر خود تبدیل کرتا ہوں: محب مرزا

اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT

میں اپنے بچے کے ڈائپر خود تبدیل کرتا ہوں: محب مرزا

پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار محب مرزا کا کہنا ہے کہ بچوں کی تربیت اور گھریلو امور میں مردوں کو بھی برابر ذمہ داریاں اُٹھانی چاہئیں۔

حال ہی میں اداکار ایک پوڈکاسٹ میں دکھائی دیئے جہاں انہوں نے دوسری بار والد بننے کے تجربے اور بیٹے کی پیدائش کے بعد زندگی میں آنے والی تبدیلیوں پر بات کی۔

دورانِ انٹرویو انہوں نے کہا کہ بچوں کہ پرورش کرنا، ان کی دیکھ بھال کرنا صرف ماں کی ذمہ داری نہیں بلکہ دونوں والدین کو مل کر یہ ذمہ داری اُٹھانی چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آتا اکثر باپ بچوں کے ڈائپر تبدیل کرتے ہوئے کراہت کیوں محسوس کرتے ہیں؟ پہلے اپنی بیٹی اور اب اپنے بیٹے کے ڈائپر میں خود تبدیل کرتا ہوں۔

انہوں نے مردوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ایک ماں بچے کی ضروریات کا خیال رکھتی ہے اسی طرح یہ باپ کا بھی فرض ہے کہ وہ بھی بچوں کی ذمہ داریاں برابر سے اُٹھائے۔

اس کے ساتھ انہوں نے مزید کہا کہ میں گھر کے کاموں میں صنم کی مدد کرتا ہوں، ہمارے پاس صرف صفائی کے لیے اور ہفتے میں 3 دن کھانا پکانے والے آتے ہیں اس کے علاوہ باقی تمام کام ہم خود کرتے ہیں۔ میں برتن دھوتا ہوں اور یہ عادت مجھ میں اپنے والد سے آئی ہے، وہ اپنی پلیٹ خود دھوتے تھے جس سے میں نے یہ سیکھا کہ سب کو برابر کام کرنا چاہیے۔

محب مرزا نے یہ بھی کہا کہ بچوں کی پیدائش کے بعد زیادہ تر وقت ان کی دیکھ بھال میں لگ جاتا ہے۔

واضح رہے کہ 2005 میں اداکار محب مرزا نے اداکارہ آمنہ شیخ سے پہلی شادی کی تھی، جو 2019 میں طلاق پر ختم ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی میسا ہے جو 2015 میں پیدا ہوئی۔

بعدازاں محب مرزا نے اداکارہ صنم سعید کے حوالے سے گزشتہ برس اعلان کیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوچکے ہیں۔ ان کے یہاں رواں سال مئی میں بیٹے ولی حسن مرزا کی پیدائش ہوئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟