میں اپنے بچے کے ڈائپر خود تبدیل کرتا ہوں: محب مرزا
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار محب مرزا کا کہنا ہے کہ بچوں کی تربیت اور گھریلو امور میں مردوں کو بھی برابر ذمہ داریاں اُٹھانی چاہئیں۔
حال ہی میں اداکار ایک پوڈکاسٹ میں دکھائی دیئے جہاں انہوں نے دوسری بار والد بننے کے تجربے اور بیٹے کی پیدائش کے بعد زندگی میں آنے والی تبدیلیوں پر بات کی۔
دورانِ انٹرویو انہوں نے کہا کہ بچوں کہ پرورش کرنا، ان کی دیکھ بھال کرنا صرف ماں کی ذمہ داری نہیں بلکہ دونوں والدین کو مل کر یہ ذمہ داری اُٹھانی چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آتا اکثر باپ بچوں کے ڈائپر تبدیل کرتے ہوئے کراہت کیوں محسوس کرتے ہیں؟ پہلے اپنی بیٹی اور اب اپنے بیٹے کے ڈائپر میں خود تبدیل کرتا ہوں۔
انہوں نے مردوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ایک ماں بچے کی ضروریات کا خیال رکھتی ہے اسی طرح یہ باپ کا بھی فرض ہے کہ وہ بھی بچوں کی ذمہ داریاں برابر سے اُٹھائے۔
اس کے ساتھ انہوں نے مزید کہا کہ میں گھر کے کاموں میں صنم کی مدد کرتا ہوں، ہمارے پاس صرف صفائی کے لیے اور ہفتے میں 3 دن کھانا پکانے والے آتے ہیں اس کے علاوہ باقی تمام کام ہم خود کرتے ہیں۔ میں برتن دھوتا ہوں اور یہ عادت مجھ میں اپنے والد سے آئی ہے، وہ اپنی پلیٹ خود دھوتے تھے جس سے میں نے یہ سیکھا کہ سب کو برابر کام کرنا چاہیے۔
محب مرزا نے یہ بھی کہا کہ بچوں کی پیدائش کے بعد زیادہ تر وقت ان کی دیکھ بھال میں لگ جاتا ہے۔
واضح رہے کہ 2005 میں اداکار محب مرزا نے اداکارہ آمنہ شیخ سے پہلی شادی کی تھی، جو 2019 میں طلاق پر ختم ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی میسا ہے جو 2015 میں پیدا ہوئی۔
بعدازاں محب مرزا نے اداکارہ صنم سعید کے حوالے سے گزشتہ برس اعلان کیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوچکے ہیں۔ ان کے یہاں رواں سال مئی میں بیٹے ولی حسن مرزا کی پیدائش ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔