وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے صوبے میں سرکاری ملازمین کی تقرریوں اور تبادلوں پر پابندی لگادی
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
وزیراعلی خیبر پختونخوا نے کابینہ کی تشکیل تک سرکاری محکوں میں تقرریوں اور تبادلوں پر پابندی عائد کردی ہے۔
وزیراعلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق سرکاری محکموں، خودمختار اداروں، سرکاری محکموں کے ذیلی اداروں کے ملازمین افسروں کی تقرریوں اور تبادلوں پر وزیراعلی کی ہدایت پر پابندی عائد کردی گئی ہے.
تقرریوں اور تبادلوں پر پابندی کا اطلاق پراجیکٹ، عارضی ملازمین پر بھی ہوگا اور یہ کابینہ کی تشکیل تک نافذ العمل رہے گا۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے حلف اٹھانے کے بعد واضع کیا تھا کہ بانی چیئرمین کی مشاورت کے بعد کابینہ تشکیل دی جائے گی۔
وزیراعلی کو حلف اٹھائے 12 روز گزر گئے ہیں لیکن کابینہ کی تشکیل نہیں دی جاسکی۔
وزیراعلیٰ کے احکامات کے حوالے سے تمام محکموں کے سیکرٹریز، زیلی اداروں کے سربراہوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وزیراعلی کے احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تقرریوں اور تبادلوں پر پر پابندی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔