تحریک منہاج القرآن( بزم قادریہ) کے زیر اہتمام مجلس ختم الصلوٰۃ علی النبی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بانی سربراہ تحریک منہاج القرآن کا کہنا تھا کہ تصوف کی اصل تکریم انسانیت،برداشت اور رواداری ہے،جب بندہ اللہ تعالیٰ سے سچی محبت کرتا ہے تو وہ ہر سمت خدا کو دیکھنے لگتا ہے اور یہی اصل تصوف ہے، امت مسلمہ کی بیداری اسی وقت ممکن ہے جب اس میں روحانی شعور، اخلاقی تربیت اور تعلق باللہ کی تجدید ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ بانی و سرپرست اعلیٰ تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ تصوف دل کی اصلاح، اخلاق کی تطہیر اور خالق و مخلوق سے محبت کا نام ہے۔ آج کے دور مادیت میں تصوف کی حقیقی روح کو سمجھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہی تعلیمات معاشرے میں برداشت، امن اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تصوف رسوم و روایات کا نام نہیں بلکہ لذتِ توحید، عشقِ الٰہی، قربِ مصطفی ﷺ اور اتباعِ شریعت کے جامع امتزاج کا نام ہے۔ حقیقی تصوف دراصل قلب و باطن کی اصلاح، معرفتِ الٰہی اور محبتِ الٰہی کا ایک ہمہ گیر نظام ہے جو انسان کو بندگی کے حقیقی شعور سے آشنا کرتا ہے۔ حضرت غوث الاعظمؓ نے اپنے پاکیزہ کردار سے ثابت کیا کہ شریعت و طریقت میں کوئی تضاد نہیں بلکہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحریک منہاج القرآن اور بزم قادریہ کے زیراہتمام مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن لاہور میں ماہانہ ’’مجلس ختم الصلوٰۃ علی النبیﷺ و بڑی گیارہویں شریف‘‘ کی روحانی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا کہ جب بندہ اللہ تعالیٰ سے سچی محبت کرتا ہے تو وہ ہر سمت خدا کو دیکھنے لگتا ہے اور یہی اصل تصوف ہے، امت مسلمہ کی بیداری اسی وقت ممکن ہے جب اس میں روحانی شعور، اخلاقی تربیت اور تعلق باللہ کی تجدید ہوگی۔ انہوں نے تلقین کی کہ اخلاص، انکساری، ذکرِ الٰہی اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنایا جائے، کیونکہ قربِ الٰہی کی راہ تزکیۂ نفس، اطاعتِ قرآن و سنت اور عشقِ مصطفی ﷺ سے ہی شروع ہوتی ہے۔ تقریب میں گوشہ درود میں ماہِ ستمبر میں پڑھا گیا درود پاک 70 کروڑ 42 لاکھ 89 ہزار 753مرتبہ جبکہ مجموعی طور پر اب تک پڑھا گیا درود پاک 8 کھرب 19 ارب 29 کروڑ 79 لاکھ 15 ہزار 237مرتبہ ہے، بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں پیش کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تحریک منہاج القرا ن

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک