وفاقی محتسب کا 11 کروڑ کی مشترکہ جائیداد سے محروم کی گئی خاتون کے حق میں بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی نے 11 کروڑ کی مشترکہ جائیداد سے محروم کی گئی خاتون کے حق میں بڑا فیصلہ دے دیا۔
ترجمان فوسپاہ کے مطابق محکمے نے 11 کروڑ مالیت کی مشترکہ جائیداد میں سے خاتون کو حصہ دینے کا حکم دیا۔
خاتون نے اپنے خاوند کے ساتھ ملکر مشترکہ جائیداد خریدی تھی لیکن طلاق کے بعد سابق شوہر نے خاتون کو مشترکہ جائیداد سے محروم کر دیا تھا۔
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی فوزیہ وقار نے خاتون کی شکایت پر جائیداد میں برابر کا حق دینے کا حکم دیا۔
فوزیہ وقار کا کہنا تھا کہ فیصلہ خواتین کے جائیداد کے حقوق کے نفاذ ایکٹ 2020 کے تحت دیا گیا، خواتین کی جائیداد کے حقوق کا تحفظ آئینی اور دنیا فریضہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مشترکہ جائیداد
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔