ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اپنے اے آئی کے زبانوں کے موڈیول الف کی توسیع کا اعلان کیا ہے، جس کے ذریعے اب پاکستانی صارفین انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی میٹا اے آئی سے استفادہ کر سکیں گے۔

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے عالمی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کے تعاون سے پیر کے روز’فیوچران فوکس‘ کے عنوان سے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل کی بڑی چھلانگ، میٹا کے ساتھ بڑا کلاؤڈ معاہدہ کرلیا

میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریب کے دوران متعدد منصوبوں کا اعلان کیا گیا جن کا مقصد پاکستان کے عوام اور سرکاری اداروں کو بااختیار بنانا ہے۔

The Ministry of Information Technology and Telecommunication (MoITT) and Meta hosted “Future in Focus: AI and Innovation,” an event to advance Pakistan’s digital transformation.

Meta introduced expanded language support for Meta AI, named ALIF, allowing interaction in Urdu… pic.twitter.com/lmpwRzRg7G

— Red Marker – پیرِ ٹویٹر (@RedMarkar) October 27, 2025

ان میں سب سے نمایاں اعلان میٹا کی جانب سے میٹا اے آئی کے زبانوں کے موڈیول الف کی توسیع تھا، جو صارفین کو معلومات حاصل کرنے، اظہارِ خیال کرنے اور باہمی روابط قائم رکھنے میں مزید سہولت فراہم کرے گا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے ڈیجیٹل نیشن وژن کے تحت پاکستان ایک ایسے مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں ٹیکنالوجی ہر شہری کو بااختیار بنائے گی۔

مزید پڑھیں:میٹا کے ’ٹین اکاؤنٹس‘ کا دائرہ کار فیس بک اور میسنجر تک وسیع، پاکستان میں بھی آغاز

’قومی مصنوعی ذہانت پالیسی اور میٹا کے ساتھ شراکت داری اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان حکومت، تعلیمی اداروں اور صنعتوں میں ڈیجیٹل اختراع، مصنوعی ذہانت اور خواندگی کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ میٹا اے آئی کے اردو ورژن الف کا آغاز ایک سنگِ میل ہے، جو ٹیکنالوجی کو سب کے لیے قابلِ رسائی اور شمولیتی بنائے گا تاکہ ڈیجیٹل ترقی میں کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔

مزید پڑھیں: واٹس ایپ صارفین کو نوسربازوں سے بچانے کے لیے میٹا کی منصوبہ بندی

میٹا نے ڈیلویٹ کے اشتراک سے ایشیا پیسیفک میں پبلک سیکٹر اختراعات کو لارج لینگویج ماڈل میٹا اے آئی یعنی لالاما کی مدد سے تبدیل کرنے سے متعلق گائیڈ کا مقامی ورژن بھی متعارف کرایا۔

یہ گائیڈ، وزارتِ آئی ٹی کی مدد سے، ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح میٹا کا اوپن سورس اے آئی ماڈل لالاما حکومتی کارکردگی کو بہتر بنا سکتا ہے، عوامی خدمات میں بہتری لا سکتا ہے، اور ڈیٹا خودمختاری کو فروغ دے سکتا ہے۔

ماہرین کی آرا

نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیٹیشن کونسل کے وائس چیئر ڈاکٹر سید منصور سرور نے کہا کہ پاکستان میں کمپیوٹنگ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کی صلاحیت سازی ضروری ہے۔

ان کے مطابق، میٹا کے ساتھ تعاون اساتذہ کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اختراع کے مستقبل کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کریں۔

مزید پڑھیں: میٹا نے فیس بک، انسٹا گرام صارفین کو سب سے بڑی سہولت مفت فراہم کردی

ایٹم کیمپ کی سی ای او فضہ امجد کا کہنا تھا کہ غیر تکنیکی فیکلٹی کو اے آئی کی تربیت دے کر ہم ایسا اثر پیدا کر رہے ہیں جو ہزاروں طلؤاہ تک پہنچے گا اور صنعت و تعلیم کے درمیان تعلق کو مضبوط کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام مصنوعی ذہانت کی سمجھ کو کمپیوٹر سائنس سے آگے لے جاتا ہے اور مختلف شعبہ جات کے ماہرین کو نئی ٹیکنالوجیز سے ہم آہنگ کرتا ہے۔

میٹا کا موقف

میٹا کے پبلک پالیسی ڈائریکٹر برائے جنوبی و وسطی ایشیا، صارم عزیز کا کہنا تھا کہ میٹا کمپنی پاکستان کے اے آئی سے منسلک ترقیاتی وژن کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔

’وزارتِ آئی ٹی، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیٹیشن کونسل کے ساتھ تعاون کے ذریعے ہم عوامی شعبے اور تعلیمی اداروں کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔‘

مزید پڑھیں:میٹا نے اے آئی چیٹ بوٹس پر بچوں کیساتھ فلرٹ اور خودکشی سے متعلق گفتگو پر پابندی لگا دی

انہوں نے کہا کہ میٹا اے آئی میں اردو زبان کی شمولیت پاکستان میں ٹیکنالوجی تک رسائی کے نئے دروازے کھولتی ہے، جس سے مقامی کمیونٹیز اپنی زبان میں ڈیجیٹل دنیا سے جڑ سکیں گی۔

صارم عزیز کے مطابق، یہ تمام اقدامات میٹا کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں اور ذمہ دار اے آئی اپنانے کو فروغ دے۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الف اے آئی میٹا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الف اے ا ئی میٹا مصنوعی ذہانت میٹا اے ا ئی مزید پڑھیں فراہم کر کے ساتھ میٹا نے میٹا کے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ