18 کروڑ 30 لاکھ جی میل اکاؤنٹس کا ڈیٹا لیک، صارفین کے لیے خطرے کی گھنٹی
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
دنیا بھر میں حالیہ بڑے پیمانے پر ہونے والے ڈیٹا چوری کے واقعے نے ایک بار پھر آن لائن سیکیورٹی کے نظاموں کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔
تقریباً 18 کروڑ 30 لاکھ جی میل اکاؤنٹس اور ان کے پاس ورڈز انٹرنیٹ پر لیک ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل ڈاؤن: دنیا بھر میں جی میل، یوٹیوب، سرچ اور ڈرائیو متاثر
یہ معلومات اب ایک عروف سائبر سیکیورٹی ریپوزٹری میں شامل کر دی گئی ہیں، جس کے ذریعے صارفین یہ جانچ سکتے ہیں کہ آیا ان کا اکاؤنٹ بھی متاثر ہوا ہے یا نہیں۔
Urgent warning to Gmail users as 183 MILLION passwords are stolen in data breach – here's how to check if your account is affected https://t.
— Daily Mail US (@Daily_MailUS) October 27, 2025
یہ حملہ مئی 2025 میں ہونے والی اسی نوعیت کی ایک اور خلاف ورزی کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں 18 کروڑ 40 لاکھ سے زائد پاس ورڈز افشا ہوئے تھے۔
اکتوبر میں سامنے آنے والا یہ نیا واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ سائبر جرائم کا دائرہ کار مسلسل بڑھ رہا ہے اور عام صارف اب پہلے سے کہیں زیادہ غیر محفوظ ہو گیا ہے۔
ڈیٹا میں کیا شامل ہے؟تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس لیک میں ویب پتے، ای میلز اور پاس ورڈز شامل ہیں، جو مختلف ہیکرز کے اسٹیلر لاگز اور کریڈینشل اسٹفنگ کی مجموعی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔
اسٹیلر لاگز وہ فائلیں ہوتی ہیں جو متاثرہ ڈیوائسز سے چوری شدہ لاگ اِن معلومات پر مشتمل ہوتی ہیں، جبکہ کریڈنشل اسٹفنگ لسٹس میں چوری شدہ پاس ورڈز کو دیگر پلیٹ فارمز پر آزمانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: جی میل صارفین خبردار، گوگل کا ڈھائی ارب اکاؤنٹس کو عالمی سائبر حملے پر الرٹ جاری
یہ ڈیٹا کسی ایک کمپنی سے نہیں بلکہ کئی سالوں میں جمع ہونے والی چوری شدہ معلومات پر مبنی ہے جو ہیکرز کے نیٹ ورکس میں گردش کر رہی ہیں۔
یہ تمام معلومات تقریباً 3.5 ٹیرا بائٹ پر مشتمل ہیں، جن میں 231 ارب ریکارڈز شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مواد Synthient نامی تھریٹ انٹیلی جنس پروجیکٹ کے ذریعے حاصل کیا گیا جو ایک سال سے زائد عرصے سے ان سائبر سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھا۔
کتنا ڈیٹا نیا ہے؟محقق ٹرائے ہنٹ کے مطابق، 94 ہزار انٹریوں کے تجزیے سے پتا چلا کہ ان میں سے 92 فیصد معلومات پہلے سے کسی نہ کسی لیک میں موجود تھیں، لیکن 8 فیصد یعنی تقریباً 1 کروڑ 64 لاکھ نئے ای میلز اور پاس ورڈز پہلے کبھی منظر عام پر نہیں آئے تھے۔
یہ نیا ڈیٹا ماہرینِ سائبر سیکیورٹی کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاکھوں صارفین کے پاس ورڈز حال ہی میں چوری کیے گئے ہیں اور ان کا غلط استعمال ممکن ہے۔
جی میل اکاؤنٹس کی تصدیق شدہ چوریرپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چوری ہونے والے اکاؤنٹس میں جی میل صارفین کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ کئی صارفین نے تصدیق کی کہ ان کے جی میل پاس ورڈز آج بھی کارآمد ہیں۔
چونکہ جی میل اکثر دیگر آن لائن سروسز جیسے بینکنگ، کلاؤڈ اسٹوریج اور موبائل اکاؤنٹس کے لیے لاگ اِن کے طور پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے ایک جی میل اکاؤنٹ کا ہیک ہونا کئی دیگر ذاتی اور پیشہ ورانہ اکاؤنٹس تک رسائی دے سکتا ہے۔
آپ کیسے جان سکتے ہیں کہ آپ متاثر ہوئے ہیں یا نہیں؟صارفین Have I Been Pwned ویب سائٹ پر جا کر اپنا ای میل ایڈریس درج کر سکتے ہیں۔ اگر ان کا ای میل وہاں موجود ہو تو اس کا مطلب ہے کہ ان کے اکاؤنٹ کی معلومات لیک ہوئی ہیں۔
ایسی صورت میں فوری طور پر پاس ورڈ تبدیل کرنا اور دیگر وہ تمام اکاؤنٹس اپڈیٹ کرنا ضروری ہے جہاں وہی پاس ورڈ استعمال ہوا ہو۔
مزید تحفظ کے لیے ٹو فیکٹر آتھینٹیکیشن فعال کرنے اور وقتاً فوقتاً پاس ورڈ تبدیل کرنے کی بھی سختی سے سفارش کی جاتی ہے۔
بار بار ایک ہی پاس ورڈ استعمال کرنے کا خطرہماہرین کے مطابق سب سے بڑی سیکیورٹی غلطی ایک ہی پاس ورڈ کا بار بار استعمال ہے۔ اس عادت کے باعث ہیکرز ایک ہی چوری شدہ پاس ورڈ کے ذریعے کئی ویب سائٹس پر رسائی حاصل کر لیتے ہیں، جسے کریڈنشل اسٹفنگ اٹیک کہا جاتا ہے۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ صارفین پاس ورڈ مینیجرز استعمال کریں، جو ہر اکاؤنٹ کے لیے منفرد اور مضبوط پاس ورڈ تخلیق اور محفوظ کر سکتے ہیں۔
کمپنیوں اور صارفین کے لیے سبقیہ واقعہ یاد دہانی ہے کہ بڑے سے بڑا پلیٹ فارم — چاہے وہ جی میل ہو، فیس بک یا ایپل — سائبر حملوں سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔
اکثر ڈیٹا لیک براہِ راست کمپنی کے سرورز سے نہیں بلکہ صارفین کے متاثرہ ڈیوائسز یا کمزور سیکیورٹی عادات سے ہوتا ہے۔
اس لیے اداروں کو چاہیے کہ وہ پاس ورڈ پالیسیوں کو مزید سخت بنائیں، جبکہ عام صارفین کو اپنی آن لائن سیکیورٹی کو روزمرہ عادت بنانا چاہیے۔
گوگل کا ردعملگوگل نے اس واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا۔ تاہم کمپنی صارفین کو ہمیشہ ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن فعال رکھنے، سیکیورٹی چیک اپ کرنے اور مشکوک لاگ اِن پر نظر رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
اگرچہ یہ حملہ براہِ راست گوگل کے سسٹمز پر نہیں ہوا، مگر جی میل اکاؤنٹس کے شامل ہونے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ای میل ایڈریس پاس ورڈ جی میل ڈیٹا لیک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاس ورڈ جی میل ڈیٹا لیک جی میل اکاؤنٹس جی میل اکاؤنٹ صارفین کے سکتے ہیں پاس ورڈز چوری شدہ پاس ورڈ کے لیے
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
پاور ڈویژن نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال جون کے دوران بجلی صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا۔
اعلامیے کے مطابق ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.73 روپے فی یونٹ اضافہ جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو مجموعی طور پر 20 پیسے فی یونٹ کا فائدہ حاصل ہوگا۔
پاور ڈویژن کے مطابق جون میں بجلی کے نرخ جنوری تا مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سہ ماہی ریلیف کی شرح ماہانہ اضافے سے زیادہ رہی، جس کی وجہ سے صارفین کو خالص ریلیف میسر آئے گا۔
پاور ڈویژن نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار رہی اور برینٹ کروڈ آئل کی متوقع قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس صورتحال کے باوجود حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے بجلی صارفین کو بڑے اضافی مالی بوجھ سے محفوظ رکھا۔
اعلامیے کے مطابق اپریل میں بجلی کی قیمت میں ممکنہ طور پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافے کا خدشہ تھا، تاہم حکومتی اقدامات کے نتیجے میں اس اضافے کو محدود کرکے 1.73 روپے فی یونٹ تک رکھا گیا۔ اس طرح صارفین پر تقریباً 38 ارب روپے کا اضافی بوجھ منتقل ہونے سے بچ گیا۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ محدود لوڈ مینجمنٹ، مقامی گیس کے استعمال اور فرنس آئل کے مؤثر استعمال کے ذریعے توانائی کے بحران کا مقابلہ کیا گیا۔
مزید بتایا گیا کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے جس سے مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا ریلیف صارفین کو ملے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ لائن لاسز میں کمی اور بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث صارفین کو نمایاں ریلیف فراہم ہوا، جبکہ متوقع بیس ٹیرف کے مقابلے میں 46 ارب روپے کی منفی تبدیلی بھی صارفین کے حق میں گئی۔
پاور ڈویژن نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے عالمی اور علاقائی سطح پر درپیش مشکلات کے باوجود بجلی کے نرخوں کو مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بجلی صارفین پاور ڈویژن ریلیف کا اعلان عوام کو خوشخبری وی نیوز