وفاقی محتسب برائے تحفظ خواتین نے خاتون کو سابق شوہر سے مشترکہ جائیداد سے حق دلا دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
وفاقی محتسب برائے تحفظ خواتین و انسداد ہراسانی نے سابق شوہر کی جانب سے 11 کروڑ کی مشترکا جائیداد سے محروم کی گئی خاتون کو اس کا حق دلا دیا۔
دوستانہ تصفیہ کے بعد خاتون ملیحہ محبوب کے حق میں سنائے گئے فیصلے پر سابق شوہر ڈاکٹر شیراز چیمہ کی نظرثانی درخواست بھی نمٹا دی گئی۔
سابق شوہر کی جانب سے سیٹلمنٹ پروپوزل پر اعتراض نہ کیے جانے کے باعث ای الیون کا اپارٹمنٹ اور بی 17 کا ایک پلاٹ خاتون کے نام ٹرانسفر کر دیا گیا۔
وفاقی محتسب نے فیصلے میں لکھا کہ اسلام نے 1400 سال قبل خواتین کو ان کے حقوق دیے۔ خاتون کو اس کی جائیداد کے حق سے محروم کرنا غیر قانونی اور اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔
وفاقی محتسب برائے تحفظ خواتین و انسداد ہراسانی فوزیہ وقار نے خواتین کے املاک کے حقوق کے نفاذ کے ایکٹ 2020 کے تحت دیئے گئے اپنے فیصلے کے خلاف ڈاکٹر شیراز چیمہ کی نظرثانی درخواست نمٹا دی۔
فیصلے کے مطابق آئی ٹی کے شعبہ سے وابستہ ملیحہ محبوب حیدر نے اپنے سابق شوہر کے خلاف شکایت درج کرائی کہ دونوں کی شادی 11 اپریل 2004 کو ہوئی تھی جو 2019 میں خلع کے ذریعے ختم ہوئی۔
شادی کے دوران دونوں نے اسلام آباد میں مشترکا طور پر جائیدادیں بنائیں جس میں ای الیون کا اپارٹمنٹ اور سیکٹر بی 17 کے تین پلاٹس شامل تھے۔ شکایت کنندہ نے خریداری سے متعلق تمام دستاویزات، معاہدات اور ادائیگیوں کے ثبوت پیش کیے۔
خاتون کے سابق شوہر ڈاکٹر شیراز چیمہ بار بار نوٹسز کے باوجود پیش نہ ہوئے، جس پر یکطرفہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ فیصلے کے بعد شکایت کنندہ کے سابق شوہر نے فیصلے پر نظرثانی درخواست دی۔
وفاقی محتسب نے فریقین کے لیے جائیداد کی 11 کروڑ روپے مارکیٹ ویلیو طے کی۔ سیٹلمنٹ پروپوزل خاتون کے سابق شوہر کو بھجوائی گئی جس پر اس نے کوئی اعتراض نہ کیا۔
وفاقی محتسب نے حکم دیا کہ اپارٹمنٹ اور ایک فلیٹ شکایت گزار کو دیا جائے جس کے ٹرانسفر اخراجات وہ خود برداشت کرے۔ ملٹی پروفیشنل کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی نے جائیدادوں کی منتقلی مکمل ہونے کی رپورٹ جمع کرا دی۔
وفاقی محتسب نے فیصلے میں لکھا کہ آئین پاکستان خواتین کے مساوی جائیداد کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وفاقی محتسب نے سابق شوہر نے فیصلے
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز