شرح سود میں کمی نہ کرنا معیشت کے لیے نقصان دہ ہے، سلیم ولی محمد
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251028-06-25
کراچی (کامرس رپورٹر)پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں کمی نہ کرنا کاروباری طبقے کے لیے مایوس کن ہے اور اس سے معاشی سرگرمیوں میں مزید کمی واقع ہوگی۔سلیم ولی محمد کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں کاروبار پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں، اور اگر شرح سود میں کمی نہ کی گئی تو یہ مزید مندی کی طرف جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں میں بہتری صرف اسی وقت ممکن ہے جب شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے۔ ہم نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے کیونکہ جب تک یہ نہیں ہوگا، معیشت میں بہتری ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کو چاہیے کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔ ہم وقت ضائع کر رہے ہیں لیکن بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ معاشی ترقی کا واحد راستہ یہی ہے کہ کاروبار کو آسانی دی جائے اور شرح سود میں واضح کمی کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔