پنجاب میں سموگ وبال جان بن گئی، لاہور آلودہ ترین شہروں میں آج بھی سر فہرست
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) پنجاب میں سموگ وبال جان بن گئی، لاہور فضائی آلودگی میں آج بھی دنیا میں سر فہرست ہے۔
لاہور میں مجموعی اے کیو آئی 462 کو چھو گیا، صوبائی دارالحکومت کے علاقے ساندہ روڈ 941، کینٹ 690، اقبال ٹاؤن 639 اور برکی روڈ کا ایئر کوالٹی انڈیکس 616 تک جا پہنچا۔
ملتان کی فضا بھی انتہائی آلودہ ہوگئی، مجموعی اے کیو آئی 507 تک پہنچ گیا، فیصل آباد712 ، گوجرانوالہ 287، پشاور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 219 ریکارڈ کیا گیا۔
طبی ماہرین نے شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلنے اور ماسک کا استعمال یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔
واضح رہے کہ حکام نے بتایا تھا کہ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے 16 مکینیکل واشرز، 50 واشر رکشے اینٹی سموگ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، سڑکوں کی واشنگ اور پانی کا چھڑکائو کرنے کیلئے 200 صفائی اہلکار دن کی شفٹ میں اور 200 ورکرز رات کی شفٹ میں تعینات کئے گئے ہیں، دن اور رات کی شفٹ میں 300 کلومیٹر سے زائد شاہراہوں پر واشنگ اور پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ای پی اے کی جانب سے جاری کردہ 47 شاہراہوں پر دن میں دو بار پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے، جیل روڈ، مین بلیوارڈ گلبرگ، نور جہاں روڈ، ایم ایم عالم روڈ، جی ٹی روڈ، بند روڈ، راوی روڈ، شاہدرہ، سگیاں، نظریہ پاکستان روڈ، رائیونڈ روڈ، فیروزپور روڈ سمیت دیگر تمام ہائی ایئر کوالٹی انڈیکس ایریاز میں واشنگ اور پانی کا چھڑکاؤ جاری ہے۔
نائٹ شفٹ میں لاہور کے تمام داخلی خارجی راستوں پر مکینیکل واشنگ اور پانی کا چھڑکاؤ یقینی جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: واشنگ اور پانی کا شفٹ میں
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔