بین الاقوامی مقابلۂ حسنِ قرأت کا دوسرا روز، 12 قاری آج تلاوت پیش کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیرِ اہتمام پہلے بین الاقوامی مقابلۂ حسنِ قرأت کا دوسرا روز آج انتہائی روح پرور ماحول میں جاری ہے۔
دارالحکومت کے جناح کنونشن میں دنیا بھر سے آئے 12 ممتاز قاری اپنی خوبصورت آواز میں قرآنِ کریم کی تلاوت پیش کریں گے۔
مقابلے کے دوسرے دن مجموعی طور پر 2 گروپس تلاوت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: حسن ابدال کی لائبریری میں محفوظ قرآن پاک کے نایاب نسخے
گروپ 3 میں لیبیا، آئیوری کوسٹ، نائجر، شام، عراق اور ازبکستان کے قاری حصہ لیں گے۔
جب کہ گروپ 4 میں مصر، نائجیریا، کرغزستان، سیرالیون، گنی اور پاکستان کے قاری تلاوت کی سعادت حاصل کریں گے۔
The Ministry of Religious Affairs extends a heartfelt welcome to all our distinguished guests participating in the first ever International Qirrat Competition.
— Ministry of Religious Affairs & Interfaith Harmony (@MORAisbOfficial) November 21, 2025
کل مقابلے کا تیسرا روز ہوگا جس میں گروپ 5 اور 6 کے شرکا اپنی قرات پیش کریں گے، جبکہ 27 نومبر کو سیمی فائنل اور فائنل کے مرحلے ہوں گے۔
مزید پڑھیں: 1500 سال پرانا قرآنی نسخہ، ایشیا کی دوسری بڑی لائبریری پاکستان کا فخر
بین الاقوامی مقابلۂ حسنِ قرأت کا یہ تاریخی ایونٹ نہ صرف پاکستان کے مذہبی وقار کو عالمی سطح پر اجاگر کرے گا بلکہ قرآنی تعلیمات اور روحانی اقدار کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
وزارتی اعلامیے کے مطابق مقابلے کا بنیادی مقصد قرآنِ کریم کی ترویج، قرآنی علوم کی حوصلہ افزائی اور بین الاقوامی سطح پر حسنِ قرأت کے اعلیٰ معیارات کو فروغ دینا ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے نامور قاری کے علاوہ دنیا بھر سے آنے والے شرکا کی کل تعداد 37 تک پہنچ چکی ہے۔
مزید پڑھیں:دعا اور قرآن پاک کی تلاوت سے کینسر پر مکمل قابو پایا، ونیزہ احمد کا انکشاف
24 سے 27 نومبر تک مختلف مراحل میں تلاوتوں کا جائزہ 4 بین الاقوامی ججز کی نگرانی میں لیا جائے گا۔
پاکستان کے معروف قاری سید صداقت علی چیف جج کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مقابلے کے اختتام پر 29 نومبر کو ایک پروقار تقریب میں اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے قراء کرام کو انعامات سے نوازا جائے گا۔
نمایاں کارکردگی دکھانے والے قاری یکم دسمبر کو لاہور اور 3 دسمبر کو کراچی میں خصوصی محافل میں بھی شرکت کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد اسلامی تعاون تنظیم پاکستان جناح کنونشن سینتر جناح کنونشن سینٹر قرآن کریم قرآنی تعلیمات مقابلۂ حسنِ قرأت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد اسلامی تعاون تنظیم پاکستان قرآنی تعلیمات مقابلہ حسن قرأت بین الاقوامی کریں گے
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔