وزیراعظم شہباز شریف آج برطانیہ سے وطن واپس پہنچیں گے
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ میں 4 روز قیام کے بعد آج وطن واپس پہنچیں گے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف آج رات وطن واپس پہنچیں گے، ان کے لندن میں قیام کے دوران 7 میڈیکل اپوائٹمنٹس ہوئے، انہوں نے کئی وفود سے ملاقاتیں بھی کیں۔
یاد رہے کہ قبل ازیں وزیراعظم شہبازشریف بحرین کے 2 روزہ سرکاری دورے پر منامہ پہنچے تھے۔
منامہ ایئرپورٹ پر بحرین کے ولی عہد، بحرینی افواج کے نائب سپریم کمانڈر اور وزیراعظم شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ، بحرینی نائب وزیراعظم خالد بن عبداللہ الخلیفہ، بحرینی وزیر خارجہ ڈاکٹر عبد اللطیف بن رشید الزایانی اور بحرینی قیادت کے سینئر ارکان نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کا پر تپاک استقبال کیا تھا۔
انسداد دہشتگردی عدالت کا شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کے اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کا حکم
دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ، ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ اور بحرین کے نائب وزیراعظم شیخ خالد بن عبداللہ الخلیفہ کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں بھی ہوئی تھیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف بحرین کے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔