لاہور ہائیکورٹ کی حسان نیازی کی ملٹری کورٹ کی تمام کارروائی کیخلاف درخواست پر سماعت سے معذرت
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
—فائل فوٹو
لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کے بھانجے بیرسٹر حسان نیازی کی ملٹری کسٹڈی اور ملٹری کورٹ کی تمام کارروائی کے خلاف درخواست پر سماعت سے معذرت کر لی۔
جسٹس سلطان تنویر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ دو رکنی بینچ نے کیس کی فائل کسی اور بینچ میں بھجوانے کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا دی۔
جسٹس سلطان تنویر نے کہا کہ میں نے اس سے متعلقہ ایک درخواست کو سنگل بینچ میں سنا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی 3 بینچز کیس سننے سے معذرت کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے حسان نیازی کی ملٹری کورٹ کارروائی کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر حسان نیازی کیخلاف کراچی میں بھی مقدمہحسان نیازی نے اپنے وکیل فیصل صدیقی کے ذریعے درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 9 مئی کیس میں گرفتاری کے بعد سویلین عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔
درخواست گزار نے کہا کہ تھانہ سرور روڈ پولیس نے میری کسٹڈی ملٹری کو دے دی، کسی عدالتی حکم کے باوجود غیرقانونی طور پر مجھے ملٹری کے حوالے کیا گیا۔
حسان نیازی کی جانب سے درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مجھے ملٹری کسٹڈی میں لینے کا کمانڈنگ آفیسر کا 17 اگست 2023 کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، لاہور ہائی کورٹ جیل سے رہا کرنے یا انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حسان نیازی کی
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔