سعودی عرب اور روس کے درمیان 90 روزہ ویزا فری سفر کا تاریخی معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے شہری اب 90 دن کے لیے ویزا کے بغیر ایک دوسرے کے ملک کا سفر کرسکیں گے۔ اس فیصلے کا مقصد سیاحت، کاروبار اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سعودی عرب اور روس نے 90 دن کے باہمی ویزا فری سفر کا تاریخی معاہدہ طے کرلیا۔ عرب میڈیا کے مطابق سعودیہ اور روس نے پیر کے روز ایک اہم اور تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے شہری اب 90 دن کے لیے ویزا کے بغیر ایک دوسرے کے ملک کا سفر کرسکیں گے۔ اس فیصلے کا مقصد سیاحت، کاروبار اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ معاہدہ سعودی اور روسی انویسٹمنٹ اور بزنس فورم کے دوران ریاض میں طے پایا۔ اس تقریب میں سعودی وزیرِ توانائی اور مشترکہ کمیٹی کے سربراہ شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے شرکت کی۔ معاہدے پر باقاعدہ دستخط سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور روسی نائب وزیراعظم نے کیے۔
جس کے تحت تمام قسم کے پاسپورٹس (سفارتی، خصوصی اور عام) رکھنے والے شہری ویزا کے بغیر سفر کرسکیں گے۔ اس ویزے پر صرف سفر کا مقصد سیاحت، کاروبار یا اہل خانہ اور دوستوں سے ملاقات ہوسکتا ہے۔ دونوں ممالک کے شہری ایک کیلنڈر سال میں مسلسل یا متعدد بار مجموعی طور پر 90 دن تک قیام کرسکیں گے۔ یہ معاہدہ دونوں حکومتوں کے اس عزم کی علامت ہے کہ وہ سفری پابندیاں کم کریں اور باہمی روابط میں اضافہ کریں۔ تاہم اس ویزا فری سہولت کا اطلاق ملازمت، تعلیم، حج یا عمرہ کے لیے نہیں ہوگا اور اس ویزے کی معیاد ایک سال میں صرف 90 دن ہوگئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک