آئی پی ایل نے بین اسٹوکس سمیت تین انگلش کرکٹرز کو اگلے آکشن سے باہر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
بھارت کی آئی پی ایل لیگ نے بین اسٹوکس سمیت تین انگلینڈ کے کرکٹرز کے لیے آئندہ سیزن کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ ضابطوں کے مطابق یہ تینوں کھلاڑی اگلے سال ہونے والے منی آکشن میں شرکت کے اہل نہیں ہوں گے۔
رپورٹس کے مطابق بین اسٹوکس نے اس سال میگا آکشن کے لیے خود کو رجسٹر نہیں کروایا تھا، جس کے باعث وہ 2025 کے منی آکشن میں بھی شامل نہیں ہو سکیں گے۔
انگلش بیٹر ہیری بروک نے ذاتی وجوہات کی بنا پر آخری لمحات میں اپنا نام واپس لے لیا تھا، لہٰذا وہ بھی آئندہ آکشن کے لیے اہلیت کھو بیٹھے ہیں۔
اسی طرح جیسن روئے نے 2025 کے لیے رجسٹریشن نہیں کروائی، جبکہ وہ 2024 میں بھی آکشن سے باہر رہے تھے، جس کی وجہ سے وہ بھی حصہ نہیں لے پائیں گے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ جنوبی افریقہ کے فاف ڈوپلیسی اور انگلینڈ کے آل راؤنڈر معین علی آئی پی ایل کے مقابلے میں پی ایس ایل کو ترجیح دے چکے ہیں، جبکہ آسٹریلوی آل راؤنڈر گلین میکسویل نے بھی آئی پی ایل نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی پی ایل کے لیے
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔