پشاور؛ اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کا مشن، بائیک رائیڈرز کی رجسٹریشن کیلیے خصوصی ایپ متعارف
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
پشاور میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے پولیس نے بائیک رائیڈرز کی رجسٹریشن کا فیصلہ کر لیا۔
سی سی پی او میاں سعید کے مطابق رجسٹریشن کے لیے محفوظ سفر (SafeRide) کے نام سے خصوصی ایپ متعارف کر دی گئی، سواریوں کو لے جانے والے تمام بائیک رائیڈرز کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی گئی ہے۔
ڈاکٹر میاں سعید نے بتایا کہ بائیک رائیڈرز تھانے میں اپنی رجسٹریشن کروا سکیں گے، رجسٹرڈ بائیک رائیڈر کو کیو آر کوڈ کا اسٹیکر دیا جائے گا۔
سی سی پی او کے مطابق یہ عمل شہریوں کے اعتماد اور سیکیورٹی کو یقینی بنائے گا، متعدد واقعات میں بائیک رائیڈر شہریوں کو لوٹنے میں ملوث رہے جبکہ رہزنوں نے کئی بار بائیک رائیڈرز کو بھی گن پوائنٹ پر لوٹا۔
https://dailymumtaz.com/wp-content/uploads/2025/12/peshawar.mp4
سی سی پی اور نے بتایا کہ پولیس اب تک ایسے 20 ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے، اسٹریٹ کرائم روکنے کے لیے یہ پہلا بڑا اقدام ہے، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے گا اور بائیک رائیڈرز کا ڈیٹا مرتب کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بائیک رائیڈرز
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔