قرآن پاک کی بیحرمتی روکنے کیلئے محکمہ اوقاف میں خصوصی سیل قائم
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
سیکرٹری اوقاف نے کہا کہ قرآن پاک کی حُرمت کو یقینی بنانا ایمان کا تقاضا ہے، موجودہ حکومت، اسلامی اقدار کی سربلندی کیلئے کوشاں ہے، اَمن بقائے باہمی کیلئے تمام کتبِ مقدسہ کا احترام لازم ہے، مذاہبِ عالم کے راہنما اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحانات روکیں۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعات کے تدارک کیلئے محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب نے سپیشل سیل قائم کر دیا ہے۔ سیکرٹری اوقاف پنجاب ڈاکٹر طاہر رضا بخاری کی زیرصدارت سوشل میڈیا پر قرآنِ پاک کی بے حرمتی کے تدارک کیلئے خصوصی اجلاس ہوا۔ جس کے دوران ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں چار افسران پر مشتمل سیل قائم کر دیا گیا۔ سیکرٹری اوقاف نے بتایا کہ قرآن پاک کی حُرمت کو یقینی بنانا ایمان کا تقاضا ہے، موجودہ حکومت، اسلامی اقدار کی سربلندی کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اَمن بقائے باہمی کیلئے تمام کتبِ مقدسہ کا احترام لازم ہے، مذاہبِ عالم کے راہنما اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحانات روکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاک کی
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔