ویمنز ورلڈکپ: روایتی حریف پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آج مدمقابل آئیں گی
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
آئی سی سی ویمن ورلڈ کپ میں آج روایتی حریف پاکستان اور بھارت مدمقابل ہوں گے۔
آئی سی سی ویمن ورلڈ کپ می پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آج کولمبو کے پریما داسا اسٹیڈیم میں آمنے سامنے ہوں گی۔
میچ کی تیاری کیلئے پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی ٹریننگ ہفتے کو شیڈولڈ تھی مگر بارش کے سبب یہ پریکٹس سیشن منسوخ ہوگیا۔
تاہم ٹاکرے کی تیاری کیلئے پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم نے ان ڈور سیشن میں جم کر پریکٹس کی، کھلاڑیوں نے ان ڈور نیٹس پر بیٹنگ اور بولنگ کی مشقیں کیں۔
ہیڈ کوچ محمد وسیم اور دیگر کوچز کی نگرانی میں ویمن کرکٹرز نے فزیکل ٹریننگ میں بھی حصہ لیا۔
پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان آج میچ بارش سے متاثر ہونے کا بھی امکان ہے۔ میچ کے آغاز سے قبل بارش کی پیش گوئی ہے جو وقفے وقفے سے جاری رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان اور بھارت
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :