خلائی اسٹیشن پر پھنسے خلابازوں کی زمین پر واپسی کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
ناسا کے خلاباز بوچ ولمور اور سنی ولیمز جنہوں نے گزشتہ سال جون میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کا سفر کیا تھا اور وہیں پھنس گئے تھے، اب نو ماہ کے طویل قیام کے بعد زمین پر واپسی کی تیاری کر رہے ہیں۔
آئی ایس ایس سے ایک پریس کانفرنس میں، ولمور اور ولیمز نے زمین پر واپس آنے کی اپنی توقع کا اظہار کیا اور ساتھ ہی اس جگہ کو چھوڑنے کے بارے میں پرانی یادوں کا بھی اظہار کیا جس میں انہوں نے اتنا طویل عرصہ گزارا۔
یہ مشن گزشتہ موسم گرما میں اس وقت شروع ہوا جب ولمور اور ولیمز نے آئی ایس ایس کا سفر کیا۔ بدقسمتی سے، کیپسول میں خرابی پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے ناسا نے خلابازوں کی حفاظت کو ترجیح دی اور انہیں اسپیس اسٹیشن پر محفوظ طریقے سے رکھا۔
لیکن اب وہ اگلے ہفتے لانچ ہونے والے اسپیس ایکس کیپسول میں زمین پر واپس آئیں گے۔
واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک سابق جوبائیڈن انتظامیہ پر خلابازوں کی پرواہ نہ کرنے کا الزام عائد کرچکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔