KINSHASA:

کانگو کے دارالحکومت کنشاسا میں بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے 30 افراد ہلاک ہوگئے اور حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کردیا ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیر صحت  پیٹریسن گونگو اباکاضی نے بتایا کہ سیلاب سے ہلاکتوں کی یہ تعداد غیرحتمی ہے کیونکہ بارشوں سے دارالحکومت کے کئی علاقوں میں گھر اور سڑکیں تباہ ہوچکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کے حوالے سے تاحال جو اعداد وشمار سامنے آرہے ہیں اس کے مطابق 30 افراد کی تصدیق ہوچکی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دریائے ندجیلی میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا ہے حالانکہ اس کے اطراف ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد شہری آبادی ہے جہاں قومی شاہراہ بلاک ہے اور ڈرائیورز گزشتہ ایک روز سے پھنسے ہوئے ہیں۔

ایک شہری پیٹریسیا میکونگا نے بتایا کہ میں ایک دوست لینے کے لیے گزشتہ روز ایئرپورٹ گیا تھا اور واپسی کے دوران میں ہم نے رات کار کے اندر گزاری کیونکہ گاڑی پارک کرنے کے لیے کوئی جگہ محفوظ نہیں تھی۔

دارالحکومت کے کئی علاقوں میں بجلی منقطع ہوچکی ہے۔

ایک اور شہری نے بتایا کہ علاقے میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے جہاں پانی کی فراہمی کٹ چکی ہے۔

کنشاسا کے گورنر ڈینئیل بمبا لوباکی نے کہا کہ پانی کی لائنیں متاثر ہوچکی ہیں تاہم لائن دو یا تین روز میں بحال ہوجائے گی اور انہوں نے الزام عائد کیا کہ متعدد ہلاکتیں شہر میں کی گئیں غیرقانونی تعمیرات کے باعث ہوئی ہیں۔

گورنر نے شہریوں کو تنبیہ کردی ہے کہ غیرقانونی تعمیر شدہ گھروں اور عمارات میں مقیم افراد کو دوسرے مقام پر منتقل کردیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ 

فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔

دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب  ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔

اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار  ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب  ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔  ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھی۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • یہودی آبادکاروں اور فلسطینیوں میں جھڑپ؛ اسرائیلی فوج کا میجر اور سپاہی ہلاک
  • آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب