WE News:
2026-07-24@07:32:56 GMT

بزمِ طارق عزیز

اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT

’ابتدا ہے ربِ جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے، دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں آپ کو طارق عزیز کا سلام پہنچے۔‘

مذکورہ جملہ یقیناً طارق عزیز کے عہد میں موجود ہر پاکستانی کی سماعتوں میں محفوظ ہوگا۔ طارق عزیز کا اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہوگا کہ وہ سرکاری ٹی وی ’پی ٹی وی‘ کا پہلا مرد چہرہ تھے جس نے 1964 میں اولین نشریات میں کہا تھا کہ خواتین و حضرات آپ پاکستان ٹیلی وژن دیکھ رہے ہیں۔

طارق عزیز 28 اپریل 1936 کو متحدہ ہندوستان کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد انہوں نے خاندان کے ہمراہ ساہیوال میں نئی زندگی شروع کی۔ ابتدائی اور سیکنڈری تعلیم ساہیوال سے حاصل کی، پھر تلاش روزگار میں لاہور میں پڑاؤ ڈالا۔

یہ وہی لاہور تھا جس کی فٹ پاتھوں پہ سونے والا طارق عزیز اسی شہر کے باسیوں کی بے لوث محبت کے طفیل ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوا، یہ بات تو طے ہے کہ وہ پہلے پاکستانی آرٹسٹ تھے جو رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، لیکن ان کا ایک اور اعزاز یہ بھی تھا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو 46 ہزار ووٹوں کے بڑے مارجن سے شکست دی تھی۔

1997 کے عام انتخابات میں عمران خان کو 4 ہزار ووٹ جبکہ طارق عزیز کو 50 ہزار سے زائد ووٹ ملے تھے۔ طارق عزیز کو لاہور سے مسلم لیگ ن کے روحِ رواں نواز شریف نے ٹکٹ دیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ حملہ کیس میں سزا کے بعد وہ سیاست سے کنارہ کش ہو گئے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ انہیں اس حملے کا قطعی کوئی علم نہ تھا۔

طارق عزیز بطور شاعر، کالم نگار، اداکار، میزبان اور سیاست دان ہماری یادداشتوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کی دائمی وجہ شہرت پی ٹی وی پر ان کا منفرد شو ’نیلام گھر‘ تھا جو پہلے پہل 1975 میں آن ائیر ہوا، پھر ’طارق عزیز شو‘ اور بعد ازاں ’بزمِ طارق عزیز‘ کے نام سے لگ بھگ 41 برس تک پاکستان ٹیلی وژن سے نشر ہوتا رہا۔

ضیائی آمریت میں جب پیپلز پارٹی اور ان کے ہمدرد زیرِ عتاب تھے اور ملازمتوں سے بھی چُن چُن کر نکالے جا رہے تھے، طارق عزیز پی ٹی وی پر اسی سج دھج سے کام کرتے رہے، کہنے والے کہتے ہیں کہ ’اینکر اور آمر کا تعلق جالندھر سے تھا۔‘

طارق عزیز ’کہنے والوں‘ سے اتفاق نہیں کرتے تھے، ان کا کہنا تھا کہ جنرل ضیا نے انہیں دس سے زائد خط لکھے لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، لیکن پی ٹی وی کی جانب سے انہیں صدرِ پاکستان کا انٹرویو کرنا تھا جو مجبوری تھی اور ان کی جانب سے ہی دوستی کا ہاتھ بڑھایا گیا تھا۔

طارق عزیز کالم نگار اور شاعر بھی تھے ان کے کالموں کا مجموعہ ’داستان‘ اور پنجابی شاعری ’ہمزاد دا دکھ‘ کے نام سے شائع ہوئی تھی۔ شاعری سے گہری رغبت رکھتے تھے، کسی بھی قابل ذکر شاعر کا کوئی ایسا شعر نہ تھا جو انہیں ازبر نہیں تھا۔ طارق عزیز آخری ایام میں آپ بیتی بھی لکھ رہے تھے، جس کا نام انہوں نے خود اناؤنس بھی کیا تھا ’فٹ پاتھ سے پارلیمنٹ تک۔‘

طارق عزیز کے پسندیدہ لکھاری ابوالکلام آزاد اور من پسند شاعر مجید امجد تھے، جن سے ان کی کئی ملاقاتیں رہیں، وہ منیر نیازی کی بیباکی کو بھی پسند کرتے تھے۔ اعتراف کرتے تھے کہ مجید امجد اور منیر نیازی کی قربت نے ان میں ادبی ذوق پیدا کیا۔ ان کا ایک شعر زبانِ زد خاص و عام ہے:

ہم وہ سیاہ نصیب ہیں طارق کہ شہر میں
کھولیں دکاں کفن کی تو سب مرنا چھوڑ دیں

طارق عزیز نے 25 سے زائد فلموں میں کام کیا۔ محمد علی اور زیبا کے ساتھ پہلی فلم ’انسانیت‘ میں کام کیا جو سُپر ہٹ ثابت ہوئی۔ ’سالگرہ‘ بھی ان کی بہترین فلموں میں سے ہے۔ انہوں نے کمپیئرنگ کی دنیا میں اپنا منفرد مقام بنایا جو آج بھی اسی طرح قائم و دائم ہے۔ انہوں نے میزبانی کا منہ مانگا معاوضہ حاصل کیا، وہ اس دور میں 10 لاکھ روپے فی گھنٹا بھی وصول کرتے رہے، جب ان کی برادری کے لوگ ہزاروں میں عافیت سمجھتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ وہ بے اولاد تھے لیکن حقیقت ہے کہ خالق کائنات نے انہیں ایک بیٹے سے نوازا تھا جو شیر خواری میں ہی انتقال کر گیا تھا۔ طارق عزیز اللہ کی رضا پر ہر حال میں خوش رہے۔ ان کی وصیت کے مطابق مرنے کے بعد ان کی تمام جائیداد کو پاکستان کے نام کردیا تھا۔

طارق عزیز کو مطالعے کا شوق ازحد عزیز تھا، ان کا گھر بھی لائیبریری کا منظر پیش کرتا تھا، وہ کہا کرتے تھے کہ جس گھر میں کتابیں نہ ہوں وہ بدنصیب ہے۔ ان کا دوسرا شوق جرمن شیفرڈ تھا، جس کا انہوں نے ایک جوڑا پال رکھا تھا اور انتہائی مصروفیت سے بھی وقت نکال کر ان کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ افسوس، صد افسوس کہ زندگی بھر کی خدمات کے صلے میں 1992 میں انہیں محض تمغہ حسنِ کارکردگی کا حقدار جانا گیا۔

طارق عزیز کے والد میاں عبدالعزیز نے ان کی پیدائش سے قبل 1936 میں ہی اپنے نام کے ساتھ پاکستانی لکھنا شروع کردیا تھا۔ اسکول میں طارق عزیز کے ساتھی انہیں چھیڑتے تھے کہ تمہارا باپ ’میاں عبدالعزیز پاکستانی‘ انوکھا پاکستانی ہے؟ ایک روز روتے ہوئے والد سے پوچھا تو انہوں نے کہا تھا کہ ’دوستوں کو بتاؤ میرا باپ 1936 کا پاکستانی ہے اور تم لوگ 1947 کے پاکستانی ہو۔‘

ہر دل عزیز طارق عزیز 84 برس کی عمر میں 17 جون 2020 کو دل کی حرکتیں بے قرار ہونے سے لاہور میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے تھے، وہیں آسودہ خاک ہیں۔ طارق عزیز اپنے پروگرام کے اختتام پر کہا کرتے تھے کہ:
’وطن عزیز کو دعا ،،، پاکستان زندہ باد۔‘

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مشکور علی

طارق عزیز طارق عزیز شو طارق عزیز کا سلام پہنچے مشکورعلی نیلام گھر وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: طارق عزیز کا سلام پہنچے مشکورعلی نیلام گھر وی نیوز طارق عزیز کا طارق عزیز کے انہوں نے عزیز کو کے ساتھ تھا جو تھا کہ

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی