کراچی میں ڈاکو راج برقرار، ڈکیتی مزاحمت پر ایک اور نوجوان قتل، رواں سال ہلاکتوں کی تعداد 36 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
کراچی:
شہر میں جاری ڈاکو راج تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ، کورنگی میں موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے مزاحمت پر فائرنگ کر کے ایک اور نوجوان کی جان لے لی جبکہ دوسرے نوجوان کو زخمی کر دیا ، رواں سال ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 36 ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق کورنگی ساڑھے پانچ نمبر اویس قرنی مسجد کے قریب موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے گھر کے باہر بیٹھے ہوئے 18 سالہ ثاقب کو فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا جو اسپتال لیجاتے ہوئے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا ، ڈاکوؤں نے واردات کے دوران شور مچانے پر مقتول کے ساتھ موجود 19 سالہ احتشام کو بھی فائرنگ کا نشانہ بنا کر زخمی کر دیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر زمان ٹاؤن پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی ، جناح اسپتال میں مقتول کے رشتے دار نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ثاقب رشتے میں میرا بھانجا لگتا تھا جو کہ میرے پاس کام کرتا تھا ، لوگ مارے جا رہے ہیں ، وارداتیں عام ہوگئی ہیں ، انسانی جانیں جانوروں سے بھی بدتر ہوگئی ہیں ، پولیس بھتہ لینے میں مصروف ہے ، شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ثاقب کو ایمبولینس میں اسپتال لیجا رہے تھے کہ راستے بند ہونے کی وجہ سے قیوم آباد سے جناح اسپتال تک پہنچنا محال ہوگیا ، نوجوان ثاقب کی ڈاکوؤں کے ہاتھوں ہلاکت کی اطلاع ملنے پر اہلخانہ میں کہرام مچ گیا۔
خواتین شدت غم سے نڈھال ہوگئیں جبکہ علاقہ مکینوں کی بھی بڑی تعداد ان کی رہائش گاہ پر جمع ہوگئی اور واقعہ پر شدید اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سفاک ڈاکوؤں کی فوری گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکوو ں
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔