ملالہ یوسف زئی کا غزہ میں فوری امداد اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
نوبل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ یوسف زئی نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری امداد کی فراہمی اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
ملالہ نے سوشل میڈیا پر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کا عکس شیئر کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث غزہ کے بچے شدید بھوک اور طبی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال انتہائی دل دہلا دینے والی ہے، جہاں معصوم فلسطینی بچے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
ملالہ نے کہا، "میں ان بچوں کی حفاظت اور بہتر مستقبل کے لیے دعاگو ہوں، اور دنیا سے مطالبہ کرتی ہوں کہ فوری طور پر غزہ میں امداد پہنچائی جائے اور جنگ کا خاتمہ کیا جائے۔"
یاد رہے کہ غزہ میں امداد کی بندش کے سبب تین لاکھ کے قریب بچے فاقہ کشی کا شکار ہیں جبکہ ساڑھے تین ہزار شیر خوار بچے غذائیت کی کمی سے زندگی کے خطرے میں ہیں۔ اسرائیل نے 2 مارچ سے ہر طرح کی امداد کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جس پر اوکسفیم جیسی تنظیموں نے عالمی خاموشی کو مجرمانہ قرار دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بھارتی روپیہ تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار
نئی دہلی بھارتی کرنسی کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں بھارتی روپیہ اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پہلی بار ایک امریکی ڈالر کی قدر 97 بھارتی روپے سے تجاوز کر گئی، جس کے بعد کرنسی مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی روپیہ اس سے قبل مئی 2026 میں اپنی ریکارڈ کم ترین سطح 96 روپے 96 پیسے فی ڈالر تک گر گیا تھا، تاہم تازہ گراوٹ نے یہ ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی مسلسل کمزور ہوتی قدر بھارتی معیشت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے بھارتی روپے پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ چونکہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اس لیے تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل میں اضافہ اور امریکی ڈالر کی طلب بڑھ جاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی کرنسی پر پڑتا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق روپے کی گراوٹ کو روکنے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت کرتے ہوئے ڈالر فروخت کیے اور روپے کو سہارا دینے کی کوشش کی، تاہم اس کے باوجود کرنسی مزید دباؤ کا شکار رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں اور بیرونی مالیاتی دباؤ برقرار رہا تو بھارتی روپے کی قدر میں مزید کمی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی اشیا مہنگی ہونے، مہنگائی میں اضافے اور صنعتی شعبے پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھارتی حکومت اور مرکزی بینک کو روپے کے استحکام، مہنگائی پر قابو پانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے مزید مؤثر مالیاتی اور معاشی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ کرنسی مارکیٹ میں استحکام لایا جا سکے۔