Daily Ausaf:
2026-07-24@06:33:29 GMT

اسرائیل کا انگ انگ ٹوٹ رہا ہے

اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT

اسرائیلی میڈیا کے مطابق لعنۃ الثمانین (آٹھویں دہائی کی نحوست) یہودیوں کے اذہان میں رچا بسا ایک نظریہ ہے۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس پر یقین رکھنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کی تاریخ اسے تسلیم کرنے پر انہیں مجبور کرتی ہے۔ حالیہ غزہ جنگ کے بعد لعنۃ الثمانین کے نظریئے نے اپنی جڑیں مزید گہری کرلی ہیں۔ صہیونی ریاست میں بڑی تیزی سے یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ اسرائیل کو آٹھویں دہائی کی نحوست نے گھیر لیا ہے اور صہیونی ریاست عنقریب اپنے فنا کے گھاٹ اور تاریخ کے کوڑے دان میں گرنے والی ہے۔ جنگ کے دوران ہونے والے حملوں، اندرونی سیاسی اختلافات اور حالیہ تباہ کن آگ نے اس بحث کو مزید ہوا دے دی ہے۔ واضح رہے کہ تاریخ میں یہودیوں کی کسی ریاست نے 80 برس پورے نہیں کئے۔ آٹھ دہائیاں مکمل کرنے سے قبل ہی ہر یہودی ریاست کو زوال سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ تاہم تاریخی طور پر صرف دو حکومتیں اس سے مستثنیٰ ہیں۔ ایک حضرت دادئو علیہ السلام کی حکومت اور دوسری حشمو نائیم کی حکومت۔ جو 80 برس کو کراس کر گئی تھیں۔ اسرائیل کے ناپاک وجود کو 77برس ہو چکے ہیں۔ یعنی لعنۃ الثمانین کو صرف 3سال باقی ہیں۔ شہید احمد یاسین نے بھی یہی پیشین گوئی کی تھی، جبکہ متعدد یہودی ماہرین بھی اسی خدشے کا اظہار کررہے ہیں اور اس وقت صورتحال کو سامنے رکھ کر عبرانی میڈیا بھی اسی خدشے کا اظہار کررہا ہے۔ یہاں تک کہ سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے بھی ملکی اخبارات میں لکھے اپنے ایک مشہور کالم میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے۔ اس وقت غزہ جنگ، جنگی قیدیوں کی رہائی،ملکی معاشی مسائل اور دیگر کئی وجوہات کی بناء پر اسرائیلی معاشرہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود باراک نے نیتن یاہو کےخلاف سول نافرمانی کی اپیل کرتے ہوئے قیدیوں کو ہر صورت رہائی کو ضروری قرار دیا ہے۔ خواہ اس کے بدلے میں جنگ بند کیوں نہ کروانی پڑے۔
اسرائیلی اخبار ہآرٹس نے یکم مئی 2025 ء کو شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیل اپنی 77ویں یومِ تاسیس (جسے وہ ’’یومِ آزادی‘‘کہتا ہے)مناتے ہوئے اندرونی طور پر بکھر رہا ہے۔ اخبارکا کہنا ہےکہ اس بار کی تقریبات پر ایک گہرا سایہ چھایا ہوا ہے، کیونکہ حماس کی قید میں اب بھی کئی اسرائیلی یرغمالی موجود ہیں۔ اخبار کے افتتاحیہ میں کہا گیا ہےکہ یہ دوسرا مسلسل سال ہے جب اسرائیل ’’یومِ آزادی‘‘کے موقع پر غزہ کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ اس وقت بھی 59 اسرائیلی قیدی حماس کے پاس ہیں، جن میں سے 21 کے زندہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اخبار کے مطابق، یہ ایک ’’کڑوی حقیقت‘‘ہے کہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی قیادت میں موجود حکومتی اتحاد کےلئےاقتدار میں رہنا یرغمالیوں کی زندگیوں سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ہآرٹس لکھتا ہے کہ حکومت کی جانب سے اپنی ناکامیوں کی قیمت ادا نہ کرنا اور ان قیدیوں کو واپس لانے کے لئے سنجیدہ کوششیں نہ کرنا، حکومتی اتحاد خصوصاً وزیراعظم کے لیےایک ’’کلنک کا ٹیکہ’’ (عار کادھبہ) ہے۔ مزید کہا گیاکہ ان قیدیوں کو نظرانداز کرنا نہ صرف یومِ تاسیس کی تقریبات پراثر ڈال رہا ہے، بلکہ اسرائیلی ریاست پر عوام کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچارہا ہے، ایک ایسی ریاست جو خود کو یہودیوں کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ قرار دیتی ہے، مگر وہ انہیں بچانے میں ناکام ہے۔ آخر میں اخبار کہتا ہے کہ اسرائیلی عوام راہ بھٹک اور منزل کھو چکے ہیں اور اس کا واضح اظہار غزہ پر مسلسل جاری اس جنگ سے ہوتا ہے، جو اب عملی طور پر پورے غزہ کے عوام کو نشانہ بنا رہی ہے۔اخبار ہآرٹس نے اپنی یکم مئی 2025 ء کی اشاعت میں اسرائیل کے موجودہ سیاسی، عسکری اور سماجی حالات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اب ایک ایسی ریاست بن چکی ہے جو جنگ اور جنگی جرائم اور لڑاکوں و عام شہریوں کے درمیان فرق کرنا بھول چکی ہے۔
اخبار کے مطابق، جب کوئی ریاست اپنی اخلاقی و انسانی سمت نمایاں کرنے والی ’’قطب نما‘‘کھو دیتی ہے، تو اس کے لیے اندرونی خطرات، بیرونی خطرات سے کسی صورت کم نہیں ہوتے۔ہآرٹس نے وزیراعظم نیتن یاہو پر الزامات لگاتے ہوئےکہا ہے کہ وہ مسلسل ریاستی اداروں پر حملے کررہے ہیں۔ انہوں نے اٹارنی جنرل غالی بہاراو میارا کےخلاف نفرت انگیزی کی، اسحاق عمیت کو سپریم کورٹ کے سربراہ کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کیا، سابق آرمی چیف ہرتسی ہالیفی کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا اور اب شاباک (اسرائیلی خفیہ ادارے)کے سربراہ رونن بارکو برطرف کرنےکی کوششیں کررہے ہیں۔قیادت کی ناکامی اور بین الاقوامی تنہائی اخبار نے اسرائیلی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس نہ کوئی وژن ہے، نہ کوئی امید افزا مستقبل کا منصوبہ۔ ان کی پالیسیوں نے نہ صرف اسرائیل کو دنیا میں تنہا کردیا ہے، بلکہ یہودی قوم کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔اخبار نے لکھا کہ اسرائیل اندر سے بکھر رہا ہے، حریدی (انتہاپسند مذہبی یہودیوں) کا طبقہ لازمی فوجی سروس سے راہ فرار اختیار کررہاہےاور اظہارِ رائے کی آزادی کو دبایا جا رہا ہے۔سماجی جمود اور میڈیا کا کردار، ہآرٹس کے مطابق پارلیمنٹ کے ارکان،وزراء،فنکار، صحافی سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، نفرت انگیز اور نسل پرستانہ بیانات پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آ رہا۔ اخبار نے کہا کہ پولیس کو وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر کے انتہا پسند نظریات کے مطابق دوبارہ منظم کیاجارہا ہے، جبکہ حکومت مخالف احتجاجی تحریک کو ریاستی اداروں کی جانب سےنشانہ بنایاجارہا ہے۔ہآرٹس کااختتامی جملہ یہی ہے۔’’اسرائیل اندرسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے اور یہ صرف جنگ کا نتیجہ نہیں بلکہ قیادت کی اخلاقی، سیاسی اور سماجی ناکامیوں کا مجموعہ ہے۔‘‘
(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ہے کہ اسرائیل کے مطابق رہا ہے

پڑھیں:

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سینئر عہدیدار ایریکا گویرا روزاس نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی گرفتاری اور ان پر بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہوئے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سینئر ڈائریکٹر برائے تحقیق، وکالت، پالیسی اور مہمات، ایریکا گویرا روزاس نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی گرفتاری اور ان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

Instead of waging a campaign against the @IntlCrimCourt and continuing to arm a government committing genocide, US authorities should uphold human rights and respect the rule of law. @NYCMayor Mamdani is right: @netanyahu should be arrested, and brought before the International… pic.twitter.com/mai4rtENAh

— Erika Guevara Rosas (@ErikaGuevaraR) July 23, 2026

ایریکا گویرا روزاس نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں نیویارک کے میئر زوہران ممدانی کے حالیہ مؤقف کی حمایت کی، جنہوں نے کہا تھا کہ اگر بنیامین نیتن یاہو نیویارک کا دورہ کریں تو انہیں گرفتار کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے نیتن یاہو جنگی مجرم، اس کی جگہ جیل ہے، ظہران ممدانی ستمبر میں اسرائیلی وزیراعظم  کو گرفتار کرنے پر بضد

روزاس نے اپنے بیان میں کہا کہ  امریکی حکام کو انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے 2024 میں بنیامین نیتن یاہو کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات کے تحت گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ عدالت کا مؤقف ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کی باقاعدہ تحقیقات اور قانونی کارروائی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے نیتن یاہو کو گرفتار کریں گے، ہنگری کے نومنتخب وزیراعظم کا بڑا اعلان

اسرائیل آئی سی سی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے، جبکہ غزہ میں جاری جنگ اور انسانی بحران کے تناظر میں اسرائیلی قیادت کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قانونی اور سفارتی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایمنسٹی انٹرنیشنل جنگی جرائم نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم