ویب ڈیسک: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ڈرون حملے ہماری لوکیشنز کو جانچنے کیلئے تھے، آئندہ چند روز بتائیں گے کہ ہماری بہادر افواج کس طرح ملک کا دفاع کرسکتی ہیں۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ  دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جس کے ساتھ ہمارے رابطے نہیں ہیں۔  ایران، سعودیہ، قطر اور چین کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں ہیں۔ ایک دو ملکوں نے ہلکی پھلکی بھارت کی حمایت کی ہے باقی سارے یا ہمارے ساتھ کھڑے ہیں یا پھر نیوٹرل ہیں۔

پنجاب بھر کے سکولوں میں  تعطیلات کا اعلان

انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ ان کے قریب ترین حلیف بھی نہیں کھڑے، ہم نے بھارت کے 5 جہاز گرائے ہیں جو جنگی تاریخ میں سنگ میل ہے۔ کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے کہ پاکستان کی فوج جوابی پوزیشن میں ہے، ہماری افواج کی جوابی کارروائی دن رات جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی افواج بہادری سے ملک کا دفاع کررہی ہیں، پاکستانی قوم کو اطمینان ہونا چاہئے کہ انڈیا کے عزائم کو ملیا میٹ کیا جاچکا ہے، انڈیا کے عوام اور سیاست کے حوصلے پست ہوئے ہیں، پوری قوم افواج کے پیچھے کھڑی ہے۔

علی امین گنڈا پور کا اڈیالہ جیل کی جانب پیدل مارچ، پولیس سے تلخ کلامی

Ansa Awais Content Writer.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: نے کہا

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا