پاکستان نے ابتدا ہی سے کہا کہ ہمارا پہلگام واقعے سے کوئی تعلق نہیں: عاصم افتخار
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اقوام متحدہ میں پاکستان کےمستقل مندوب عاصم افتخار—فائل فوٹو
اقوام متحدہ میں پاکستان مستقل مندوب نے کہا ہے کہ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ 22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گرد حملہ اس کشیدگی کا سبب بنا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے ترک میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام میں دہشت گرد حملہ ایک خوفناک حملہ تھا جس کی ہر طرف سے مذمت کی گئی اور یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ 22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گرد حملہ اس کشیدگی کا سبب بنا۔
پیرس پاکستان نے یونیسکو کے ایگزیکٹوبورڈ کے.
عاصم افتخار نے بتایا کہ اس کے بعد بھارت نے ایسے اقدامات کیے جو کشیدگی کو بڑھانے کا باعث بنے، اگلے ہی دن بھارت نے ایسے فیصلے کیے جو براہ راست پاکستان کو نشانہ بنا رہے تھے۔
انہوں کہا کہ بھارتی فیصلوں میں سندھ طاس معاہدے کو معطل یا مؤخر کرنے کا فیصلہ بھی شامل تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد بغیر کسی ثبوت اور تحقیقات کے پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہوا، یہ وہی پرانا ہتھکنڈہ ہے جو ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں، جیسا کہ 2019ء میں ہوا تھا، پہلے ہی اندازہ تھا کہ یہ معاملہ کہاں جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں حالیہ پاکستانی سفارتکاری کے حوالے سے بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے سلامتی کونسل ارکان، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ اور دیگر دوست ممالک سے رابطے کیے، بہت سے دیگر ممالک اور مشترکہ دوستوں نے بھی محسوس کیا کہ صورتحال بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ، کونسل اراکین اور سیکریٹری جنرل نے بھی اپنی خدمات پیش کیں۔
پہلگام واقعے کے حوالے سے انہوں مزید کہا کہ پاکستان نے ابتدا ہی سے کہا کہ ہمارا پہلگام واقعے سے کوئی تعلق نہیں، بےبنیاد الزامات پر پاکستان نے غیرجانبدار، معتبر اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جبکہ بھارت نے ایسی کسی تحقیقات کا انتظار نہیں کیا۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت نے بین الاقوامی برادری کی تحمل اور کشیدگی کم کرنے کی اپیلوں کو نظر انداز کیا۔ بھارت نے 6 اور 7 مئی کی شب جارحیت کا اقدام کیا، جس کا پاکستان کو جواب دینا پڑا۔ ہمیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ میں عاصم افتخار پاکستان نے بھارت نے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ