بلوچستان کے عوام بھی پاکستان کے باعزت شہری ہیں، مولانا ہدایت الرحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
کوئٹہ میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا کہ سی پیک کے ثمرات، اورنج ٹرین، موٹروے دیتے وقت اسلام آباد کے حکمران بلوچستان کو پاکستان کا حصہ تصور نہیں کرتے، لیکن جب معدنیات، سیندک، ریکوڈک کی باری آتی ہے تو کہتے ہیں کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر و رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا ہے کہ ایوانوں، چوکوں، چوراہوں کیساتھ منبر و محراب کے ذریعے بھی ظالموں، لٹیروں اور جابروں کے خلاف آواز بلند ہونا چاہیے۔ اسلام آباد کے حکمران ہمارے پاکستانیت پر شک، اور ہمیں تیسرے درجے کے شہری بھی نہیں مانتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے جمعیت اتحاد العلماء و مشائخ کے زیر اہتمام "سلگتا بلوچستان اور علمائے کرام کی ذمہ داریاں" کے موضوع پر کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ سیمینار سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انکا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے حکمران بلوچستان کو صوبہ نہیں، مفتوحہ علاقہ اور کالونی سمجھتے ہیں۔ بلوچستان کے وسائل سونا، چاندی، معدنیات کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹ رہے ہیں۔ سی پیک کے ثمرات، اورنج ٹرین، موٹروے دیتے وقت اسلام آباد کے حکمران بلوچستان کو پاکستان کا حصہ تصور نہیں کرتے، لیکن جب معدنیات، سیندک، ریکوڈک کی باری آتی ہے تو کہتے ہیں کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے۔ کلبوشن کا تو احترام کیا گیا، مگر بلوچستان کے ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کا احترام نہیں ہے۔ بلوچستان کے بارڈرز بند کرکے کہتے ہیں کہ 25 ارب کا نقصان ہوتا تھا، جبکہ پی آئی اے اسٹیل مل دیگر 23 قومی اداروں نے 55 کھرب کا نقصان کیا۔ ان میں سے کسی ادارے کو بند نہیں کیا گیا۔ آئین میں بلوچستان صوبہ، لیکن اسلام آباد کے حکمران بلوچستان کو غلام سمجھ رہے ہیں۔ ہم پاکستان کے باعزت شہری ہیں۔ ہمیں عزت، تحفظ، احترام اور حقوق دیئے جائیں۔ علمائے کرام و آئمہ کرام اور مشائخ عظام سمیت پوری قوم کے ہمراہ عزت و غیرت اور حقوق کی جنگ جیتنے کیلئے پرامن جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلام آباد کے حکمران بلوچستان کو پاکستان کا حصہ بلوچستان کے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک