راولپنڈی(نیوزڈیسک) ماہرین نے بینکنگ سیکٹر کی 50 کمپنیوں پر تحقیق کے بعد نتائج مرتب کئے جس میں ڈارک ویب پر لیک ہونے والی ڈیٹا کی جانچ کی۔

7 فیصد صارفین جن کے اکاؤنٹس ڈارک ویب پر لیک ہوئے تھے ان پلیٹ فارمز پر کارپوریٹ ای میل ایڈریس کا استعمال کرتے ہوئے رجسٹر ہوئے تھے۔
تین مشہور تفریحی پلیٹ فارمز: روبلوکس، ڈسکارڈ اور نیٹ فلکس کے لیے 2019 اور 2024 کے درمیان ڈارک ویب پر ڈیٹا لیک ہوا

کیسپرسکی ڈیجیٹل فٹ پرنٹ انٹیلیجنس کی ایک تحقیق کے مطابق، ملازمین آن لائن خریداری کی سائٹس اور سوشل میڈیا پر ذاتی اکاؤنٹس کے لیے رجسٹر کرنے کے لیے کارپوریٹ ای میلز کا بھی استعمال کر سکتے ہیں، جس سے اکاؤنٹ کی چوری اور کارپوریٹ سیکیورٹی کی خلاف ورزیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کیسپرسکی ماہرین نے تین مشہور تفریحی پلیٹ فارمز:روبلوکس، ڈسکارڈ اور نیٹ فلکس کے لیے 2019 اور 2024 کے درمیان ڈارک ویب پر لیک ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ تجزیہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اوسطاً 7 فیصد صارفین جن کے اکاؤنٹس لیک ہوئے تھے، ان پلیٹ فارمز پر کارپوریٹ ای میل ایڈریس کا استعمال کرتے ہوئے رجسٹرڈ تھے۔

کیسپرسکی ڈیجیٹل فٹ پرنٹ انٹیلی جنس کے ایکسپرٹ سرجی سیربیل کا کہنا ہے کہ ” دفتری ای میل کے ساتھ ذاتی استعمال کے لیے مختلف سروسز پر رجسٹر کرنا بہترین عمل نہیں ہے۔ سب سے پہلے، اگر آپ نوکریاں بدلتے ہیں تو آپ ان اکاؤنٹس تک رسائی سے محروم ہو سکتے ہیں۔

دوسرا، یہ آپ اور آپ کی کمپنی دونوں کے لیے حفاظتی خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر آپ کے پاس ورڈز مختلف سروسز میں ایک متوقع پیٹرن کی پیروی کرتے ہیں – یہ آپ کے دفتری اکاؤنٹ سمیت دیگر اکاؤنٹس پر سائبر حملے کیے جانے کے امکانات کو بڑھاتا ہے،”

کیسپرسکی ماہرین نے یہ بھی پایا کہ بینک کے ملازمین نے عام طور پر اپنے دفتری ای میل سٹریمنگ سروسز، آن لائن خریدٓڑٰ اور سوشل نیٹ ورکس پر رجسٹر کیے ہیں۔

کچھ معاملات میں، کارپوریٹ ای میلز کو گیمنگ پلیٹ فارمز اور بالغ مواد کی ویب سائٹس پر لاگ ان کے طور پر بھی استعمال کیا گیا تھا۔ اس مطالعہ کو کرنے کے لیے، ماہرین نے بینکنگ سیکٹر کی 50 کمپنیوں کا ایک نمونہ مرتب کیا اور ڈارک ویب پر لیک ہونے والے ڈیٹا کی جانچ کی، جس میں ان کمپنیوں کے کارپوریٹ ڈومینز سے منسلک افراد کی شناخت کی گئی جو مقبول پلیٹ فارمز کی پانچ اقسام میں ہیں۔

اگر آپ کو انفوسٹیلرز کے ذریعے ڈیٹا لیک ہونے کا سامنا ہوتا ہے، تو سمجھوتہ شدہ اکاؤنٹ کے پاس ورڈز کو تبدیل کریں اور ان اکاؤنٹس سے وابستہ مشکوک سرگرمی کی نگرانی کریں۔کمپنیوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ڈارک ویب مارکیٹس کی نگرانی کریں تاکہ سمجھوتہ کیے گئے اکاؤنٹس کا پتہ لگایا جا سکے اس سے پہلے کہ وہ صارفین یا ملازمین کے لیے خطرہ ہوں۔

ممکنہ حملہ آوروں کی شناخت کرنے، اور حفاظتی اقدامات کو بروقت نافذ کرنے کے لیے کیسپرسکی ڈیجیٹل فٹ پرنٹ انٹیلیجنس کا فائدہ اٹھائیں۔ ایک انٹرپرائز کے طور پر، ملازمین کے لیے حفاظتی آگاہی کا پروگرام لاگو کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پلیٹ فارمز ماہرین نے لیک ہونے کے لیے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف