بھارت کی شکست کے بعد کا منظرنامہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
بھارت کی حالیہ شکست، جو پاکستان کے ہاتھوں دنیا کے سامنے ایک کھلی حقیقت کے طور پر اُبھری، محض ایک عسکری ناکامی نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور نظریاتی جھٹکا ہے۔ یہ شکست بھارت کے اس طویل بیانیے کو چیلنج کرتی ہے جس کے تحت وہ خود کو خطے کی سب سے بڑی، طاقتور اور ناقابلِ تسخیر ریاست تصور کرتا آیا ہے۔ دہلی کے ایوانوں میں صرف عسکری نقصان کا ماتم نہیں ہو رہا، بلکہ ایک گہرا فکری بحران بھی جنم لے رہا ہے جو ریاست کے تصورِ طاقت، اس کی سیاسی حکمتِ عملی، اور داخلی توازن کو متزلزل کر رہا ہے۔
بھارت کی تاریخ میں شکست نئی نہیں۔ 1962 میں چین کے ہاتھوں ہزیمت، 1999 میں کارگل کی سرحدوں پر غیر متوقع پاکستانی پیش قدمی، اور کشمیر میں مسلسل مزاحمت، یہ سب واقعات بھارت کی عسکری برتری کے بیانیے کو بارہا چیلنج کر چکے ہیں۔ مگر حالیہ شکست ان سب سے مختلف ہے، کیونکہ اس نے ایک ایسے وقت میں بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جب وہ عالمی سطح پر (نئی دہلی کا ابھرتا سورج) بننے کا دعویٰ کر رہا تھا۔
اس وقت نئی دہلی میں ایک غیر اعلانیہ مگر شدید عسکری تجزیہ جاری ہے۔ بھارت اپنی دفاعی حکمتِ عملی، قیادت، اور اسلحہ جاتی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لے رہا ہے۔ یہ بعید نہیں کہ بھارت اپنے عسکری بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرے، نئی ٹیکنالوجی اپنائے، اور بین الاقوامی دفاعی معاہدوں کی طرف زیادہ جھکے، خاص طور پر امریکا، فرانس اور اسرائیل کی جانب۔ لیکن اس ساری عسکری دوڑ کو ایک بڑی حقیقت روک رہی ہے، اور وہ ہی جوہری توازن۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری طاقت کا توازن کسی بھی کھلی جنگ کو محدود کرتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ بھارت اب خفیہ اور غیر روایتی طریقوں سے پاکستان کو نشانہ بنانے کی راہ اپنائے، جیسا کہ سائبر جنگ، خفیہ ایجنسیاں، اور داخلی انتشار کو ہوا دینا۔
اس شکست کا دوسرا بڑا پہلو بھارت کی داخلی سیاست اور معاشرت پر اس کا اثر ہے۔ قوم پرستی کے جذبات پر پلنے والی حکومتیں جب شکست کھاتی ہیں تو وہ داخلی دشمن تراشتی ہیں۔ بھارت کی ہندو قوم پرست قیادت ممکنہ طور پر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو اس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرائے گی، جیسا کہ اس سے پہلے پلوامہ حملوں کے بعد ہوا۔ میڈیا، جو پہلے ہی بڑی حد تک سرکاری بیانیے کا پرچارک ہے، اب اس شکست کو بھلا کر اندرونی غداروں کے خلاف فضا ہموار کرے گا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف سماجی کشیدگی بڑھے گی بلکہ ریاستی جبر کو مزید جواز ملے گا۔
اقتصادی طور پر، یہ شکست ایک خاموش زلزلہ ہے۔ اعتماد کی فضا متزلزل ہوگی، سرمایہ کاری میں ہچکچاہٹ پیدا ہوگی، اور دفاعی اخراجات میں اضافے سے تعلیم، صحت اور فلاحی منصوبے متاثر ہوں گے۔ یہ وہی منطرنامہ ہے جو 1962 کے بعد بھارت میں دیکھنے کو ملا تھا جب معاشی ترجیحات عسکری ترجیحات کے تابع ہو گئیں۔
اس شکست کا ایک بین الاقوامی پہلو بھی ہے جو کم اہم نہیں۔ امریکا اور فرانس جیسے اتحادیوں سے بھارت کو یقینی طور پر عسکری تعاون کی امید ہوگی، لیکن انہیں بھی اپنی ساکھ بچانی ہے۔ روس، جو بھارت کا دیرینہ دفاعی حلیف رہا ہے، اب اتنا غیر مشروط نہیں رہا۔ چین جو کہ پہلے ہی پاکستان کے ساتھ مصلحتی شراکت داری میں ہے اس شکست سے فائدہ اٹھاتے ہوے لداخ کے محاذ پر بھارت کو دباؤ میں لا سکتا ہے یا معاشی منصوبوں کے ذریعے پاکستان کے ہاتھ مضبوط کر سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور خلیجی ریاستیں بھی محتاط رویہ اپنائیں گی، کیونکہ ان کے لیے استحکام اولین ترجیح ہے، اور وہ کسی ایسی طاقت کے ساتھ کھل کر نہیں کھڑی ہوں گی جو خود عدمِ استحکام کا شکار ہو۔
اس سارے منظرنامے میں، پاکستان کے لیے یہ لمحہ فقط عسکری فتح کا نہیں، سیاسی تدبر اور حکمت کا بھی امتحان ہے۔ کامیابی کو سفارتی اور اقتصادی برتری کے لیے استعمال کیا جائے، یہی اصل کامیابی ہوگی۔ داخلی طور پر، یہ فتح عسکری اداروں کی ساکھ کو تقویت دے سکتی ہے، سیاسی قیادت کو استحکام فراہم کر سکتی ہے، اور قوم کو ایک نئے اعتماد کے ساتھ متحد کر سکتی ہے۔
آخر میں، بھارت آج جس مقام پر کھڑا ہے، وہ ایک چوراہا ہے: یا تو وہ شکست سے سبق سیکھ کر ایک نئے، حقیقت پسندانہ راستے پر گامزن ہو، یا ہٹ دھرمی اور انتقام کی راہ چن کر خود کو اور پورے خطے کو ایک اور خطرناک مرحلے میں دھکیل دے۔
پاکستان کے لیے بھی سوال یہی ہے: کیا وہ اس موقع کو قومی ترقی اور بین الاقوامی وقار میں تبدیل کر سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک نیا باب لکھا جا رہا ہے، اور قلم دونوں کے ہاتھ میں ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان کے بھارت کی سکتا ہے کے ساتھ یہ شکست رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔