جناح ہاؤس، عسکری ٹاور حملہ کیس: عمر ایوب کی ضمانت کی درخواستیں خارج
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
جناح ہاؤس، عسکری ٹاور حملہ کیس: عمر ایوب کی ضمانت کی درخواستیں خارج WhatsAppFacebookTwitter 0 9 August, 2025 سب نیوز
لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جناح ہاؤس، عسکری ٹاور حملہ اور تھانہ شادمان کو جلانے کے مقدمات میں پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دیں۔
جناح ہاؤس، عسکری ٹاور حملہ اور تھانہ شادمان کو جلانے کے مقدمات کی سماعت لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوئی۔
عبوری ضمانت کی معیاد ختم ہونے پر آج عمر ایوب عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور عمر ایوب کے وکلا کی جانب سے پیشی سے استثنیٰ کی درخواست کی گئی۔
عمر ایوب کے وکلا کا کہنا تھا عمر ایوب کو عدالت نے 10 سال قید کی سزا سنائی ہے، انہوں نے حفاظتی ضمانت کے لیے پشاور ہائیکورٹ رجوع کیا ہے، حفاظتی ضمانت کے بغیر عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔
تاہم عدالت نے پیشی سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عمر ایوب کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے کہا کہ عدالت سے سزا ہو چکی ہے تو مجرم عدالت کے سامنے سرنڈر کریں، سزا یافتہ مجرم کو حفاظتی راہداری ضمانت نہیں ملتی، سرنڈر سے پہلے ملزم اپیل بھی دائر نہیں کر سکتا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنیب کا عوامی مفاد کے تحفظ اور لوٹی گئی قومی دولت کی بازیابی کے لیے عزم کا اعادہ نیب کا عوامی مفاد کے تحفظ اور لوٹی گئی قومی دولت کی بازیابی کے لیے عزم کا اعادہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کا دورہ وزیراعظم کا آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تاریخی امن معاہدے کا خیرمقدم سپریم کورٹ کے جج نے بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کی نیلامی میں جلد بازی پر سوال اٹھا دیا عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت ملتوی خیبر پختونخوا میں حکومت کی تبدیلی خارج از امکان نہیں،مناسب وقت پر اکثریت ثابت کرینگے، امیر مقامCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عمر ایوب کی ضمانت کی درخواستیں خارج عسکری ٹاور حملہ جناح ہاو س عدالت نے کے لیے
پڑھیں:
لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
لاہور ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران خاتون کو اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی جس پر انکی 8 بیٹیاں عدالت کے باہر دھاڑیں مار کر روتی رہیں۔
لاہور ہائیکورٹ میں درخواست گزار غلام حسین نے حبسِ بے جا کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ شبنم بی بی کو انکے سابق شوہر اور اہلِ خانہ نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے لہٰذا عدالت انہیں بازیاب کرا کے ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے۔
سماعت کے دوران شبنم بی بی نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ وہ غلام حسین سے نکاح کرچکی ہیں اور ان کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہیں۔ عدالت نے خاتون کے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔
عدالتی فیصلے کے بعد عدالت کے باہر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں شبنم بی بی کی پہلی شادی سے ہونے والی بیٹیاں زار و قطار روتی رہیں۔
بیٹیوں میں سے ایک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی والدہ نے عدالت میں انہیں پہچاننے سے بھی انکار کردیا اور اپنے نئے شوہر کے حق میں بیان دیا۔ عدالتی حکم کے بعد شبنم بی بی اپنے شوہر غلام حسین کے ہمراہ روانہ ہوگئیں۔