بھارت کی شکست سے مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہو گیا ہے، مظہر سعید
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران پوری قوم کا جذبہ جہاد دیدنی تھا اور ملک و ملت کی سلامتی کیلئے پاک فوج کے پیچھے قوم سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی رہی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اطلاعات آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر مولانا پیر محمد مظہر سعید شاہ نے کہا کہ بھارت کے جنگی جنون کو شکست دینے پر ضلعی انتظامیہ، صحافیوں اور نیلم کی عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ بھارت کی شکست سے مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہو گیا ہے۔ ہماری افواج نے دانشمندی سے دشمن پر ہیبت طاری کی ہے۔جہاں آپریشن "بنیان مرصوص" اور ہمارے شاہینوں کی کامیابی کو پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے وہیں پر بھارت کی جانب سے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی فلم بھی فلاپ ہوئی ہے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اطلاعات آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر مولانا پیر محمد مظہر سعید شاہ نے ڈپٹی کمشنر کانفرنس ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ندیم احمد جنجوعہ اور ایس پی خواجہ محمد صدیق بھی موجود تھے۔
پیر مظہر سعید شاہ نے کہا کہ ہمارے شہداء ہمارا فخر ہیں ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران پوری قوم کا جذبہ جہاد دیدنی تھا اور ملک و ملت کی سلامتی کیلئے پاک فوج کے پیچھے قوم سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی رہی۔ صحافیوں نے ذمہ دارانہ رویے کے ساتھ فتح میں اپنا حصہ ڈالا جس پر ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ صحافی مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے اور بھارت کے مظالم کو پوری دنیا پر اجاگر کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مساجد، معصوم بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا جبکہ پاک فوج نے ان کی دفاعی تنصیبات پر کاری ضرب لگائی ہے۔ہمارے شاہینوں نے معصوم شہیدوں کا بدلہ لیا ہے جس پر ہم سب کو فخر ہے۔
پیر مظہر سعید شاہ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔ کشمیریوں کو اگر ان کا حق خودارادیت نہ دیا گیا تو پوری دنیا کے امن کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی بدقسمتی ہے کہ ان کا وزیراعظم اپنی ہی عوام کو قتل کر رہا ہے۔ دنیا پر ثابت ہو گیا ہے کہ پاک فوج ہماری محافظ جبکہ انڈین فوج مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ظلم ڈھا رہی ہے۔ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے کشمیریوں کے مکان شک کی بنیاد پر بارود سے اڑا دیے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم آزمائش سے سرخرو ہو کر نکلے جنگ کے دوران نقصان بھی ہوتا ہے جس کو پوری قوم نے بخوشی قبول کیا ہے۔ بھارتی جارحیت کے نتیجے میں آزاد کشمیر میں 31 افراد شہید، 125 افراد زخمی اور 235 مکانات متاثر ہوئے ہیں۔ اس دوران حکومت نے عوام کی حفاظت کیلئے 02 گاوں سے آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا تھا۔ نیلم میں رتہ پانی سے 253 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ نیلم میں 2 افراد شہید، 6 افراد زخمی اور 13 مکانات مکمل، 83 جزوی طور پر متاثر، 24 دکانیں جزوی طور پر متاثر ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مظہر سعید شاہ نے مسئلہ کشمیر نے کہا کہ بھارت کے پر اجاگر پاک فوج
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔