قومی اسمبلی: بھارت کیخلاف تاریخی فتح پر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد متفقہ منظور
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
قومی اسمبلی نے بھارت کے خلاف تاریخی فتح پر مسلح افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد متفقہ منظور کرلی۔
اسپیکر قانون ساز اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قرارداد پیش کی، جسے متفقہ منظور کرلیا گیا۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے خلاف تاریخی کامیابی پر اللہ پاک کے شکر گزار ہیں، اور قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
پارلیمان میں تمام سیاسی جماعتوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اعظم نذیر تارڑ سیاسی جماعتیں قرارداد منظور قومی اسمبلی مسلح افواج پاکستان وفاقی وزیر قانون وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ سیاسی جماعتیں قومی اسمبلی مسلح افواج پاکستان وفاقی وزیر قانون وی نیوز
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :