پاکستان کی مسلح افواج کی مئی2025 کی عظیم عسکری کامیابی پر پنجاب اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
ممبرانِ صوبائی اسمبلی پنجاب سارہ احمد اور مہوش سلطانہ کی جانب سے پاکستان کی مسلح افواج کی مئی2025 کی عظیم عسکری کامیابی پر پنجاب اسمبلی میں اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ10 مئی کو ہر سال "یومِ فتحِ پاکستان” سرکاری سطح پر منایا جائے تاکہ نئی نسل کو پاکستان کی عسکری صلاحیت، حکمت عملی اور قربانیوں سے روشناس کرایا جا سکے۔
قرارداد میں پاکستان کی مسلح افواج کو اس عظیم کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی گئی اور کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے خطے میں طاقت کا توازن بدلنے کی کوشش کو پاکستان نے ناکام بنایا۔ پاکستان نے حکمت، تحمل اور اعلی عسکری مہارت کے ذریعے دشمن کو فیصلہ کن شکست سے دو چار کیا۔پاکستان نے صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنا کر اخلاقی برتری کا مظاہرہ بھی کیا۔
بھارتی عسکری ساز و سامان، جن میں رافیل طیارے، براہموس میزائل اورS-400 دفاعی نظام شامل ہیں،مو ثر ثابت نہ ہو سکے۔قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان اور چین کا عسکری اتحاد اب خطے میں ایک نئی حقیقت کے طور پر ابھر چکا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا،پاک فضائیہ، بحریہ اور آپریشن "بنیانِ مرصوص” کے تمام شرکاکو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔
قرارداد کے آخر میں ان تمام شہدا اور معصوم بچوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جنہوں نے مادرِ وطن کی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔