اسلام آباد:

27ویں ترمیم پر مشاورت کے لیے بنائی گئی قانون انصاف کی مشترکہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی کا ان کیمرا ہوا جس میں جے یو آئی واک آؤٹ کرگئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جے یو آئی کی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے کہا کہ ہمارے آرٹیکل 243 پر تحفظات ہیں اس آرٹیکل میں ترمیم کی مخالفت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا گیا کہ آج مسودے کو پاس نہیں کریں گے، ہمارے کہنے پر جو کچھ چھبیسویں ترمیم میں سے نکالا گیا تھا ان کو ستائیسویں ترمیم میں شامل کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ججز والے معاملے پر بھی ہمارے تحفظات ہیں، پگڑی کس کی بھاری ہو گی، آئینی عدالت کے جج کی یا سپریم کورٹ کے جج کی؟

عالیہ کامران نے کہا کہ ایڈوائزرز کی تعداد بڑھائی جاری ہے، ایک غریب ملک میں ایڈوائزرز کی تعداد بڑھانا عوام کا کون سا فائدہ ہے؟

بعدازاں جے یو آئی اجلاس سے واک آؤٹ کرگئی۔

پارلیمانی کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس ختم اور کل گیارہ بجے دوبارہ طلب کیا گیا ہے۔  جے یو آئی (ف) اب مشاورت کرکے بتائے گی کہ کل وہ اس اجلاس میں شرکت کرے گی یا نہیں۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بائیکاٹ جے یو آئی کا جمہوری حق ہے، عالیہ کامران نے کہا پارٹی کی طرف سے ہدایت ہے بائیکاٹ کی، ہم نے اپوزیشن کو بھی اس کمیٹی میں تشریف لانے کی درخواست کر رکھی ہے، ہم نے تمام جماعتوں سے 27 ویں آئینی ترمیم کا ڈرافٹ شئیر کر رکھا ہے، اپوزیشن سے کہا فلور آف دی ہاؤس اپنی تجاویز دیں  لیکن میں نہ مانوں کی اگر بات ہو تو غیر مناسب ہے۔

ان کا وفاقی عدالت کے قیام سے متعلق کہنا تھا کہ اس پر پندرہ بیس سال سے بحث ہورہی ہے، 18ویں آئینی ترمیم کے وقت اس پر عمل نہ ہوسکا، 26ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی کوشش کی مگر مولانا فضل الرحمان نہ مانے، مولانا فضل الرحمان نے کہا فی الحال بینچز بنا کر دیکھیں، آئینی بینچز سے مسئلہ یہ ہوا کہ وہی جج دوسرے مقدمے سنتے تھے، سپریم کورٹ میں 60 70 ہزار مقدمات میں تاخیر ختم ہو۔

انہوں نے کہا کہ آج سارے ممبران نے تحمل سے اسے دیکھا، 27ویں آئینی ترمیم کے ڈرافٹ پر آج 60 فیصد چیزوں پر بحث ہوسکی، مختلف اراکین نے سوالات بھی اٹھائے ہم نے خوش اسلوبی سے سنے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جے یو ا ئی نے کہا کہ

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی