وادی کشمیر میں بھارتی ایجنسیوں کے آٹھ مقامات پر چھاپے
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
پولیس کے مطابق یہ کارروائی بھارت کی سلامتی کے خلاف کسی بھی سازشی یا دہشتگرد سرگرمی کا سراغ لگانے اور اسے روکنے کی ہماری مستقل کوششوں کا حصہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وادی کشمیر میں عوام کے ہراساں کرنے کی اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے سرینگر پولیس نے غیرقانونی سرگرمیوں سے متعلق قوانین (یو اے پی اے) کے تحت مختلف افراد کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ پولیس کے مطابق اس مہم کے تحت سرینگر شہر میں ان افراد کے گھروں پر چھاپے مارے گئے جن کے خلاف "یو اے پی اے" کے تحت مختلف مقدمات درج ہیں۔ حالیہ دنوں اب تک ایسے 150 سے زائد چھاپے مارے جا چکے ہیں۔ تازہ ترین کارروائی کے تحت آج سرینگر کے مختلف علاقوں میں آٹھ افراد کے گھروں کی تلاشی لی گئی۔ ان میں زالڈگر علاقے کے عادل منظور لنگو، ڈومبا کدل کے باسط بلال مکایہ اور رامپورہ کے وسیم طارق مٹہ شامل ہیں، جو یو اے پی اے اور اسلحہ سے متعلق دیگر قوانین کے تحت درج مقدمات میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔
جن دیگر افراد کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ان میں کاو محلہ کے فیاض احمد لون، آبی گورپورہ کے محمد اشرف کلو، دیوی آنگن حول کے قاضی عثمان، قلمدان پورہ کے مظفر احمد ماگرے اور پالپورہ نورباغ کے شہباز فاروق بٹ شامل ہیں۔ پولیس بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام چھاپے قانونی ضوابط کے مطابق، ایگزیکٹو مجسٹریٹس اور آزاد گواہوں کی موجودگی میں مارے گئے۔ ان کارروائیوں کا مقصد اسلحہ، ڈیجیٹل آلات، دستاویز اور دیگر مواد کی برآمدگی تھا جو شواہد یا انٹیلی جنس اکٹھا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
پولیس بیان کے مطابق یہ کارروائی ملک کی سلامتی کے خلاف کسی بھی سازشی یا دہشت گرد سرگرمی کا سراغ لگانے اور اسے روکنے کی ہماری مستقل کوششوں کا حصہ ہے۔ سرینگر پولیس نے پُرامن ماحول کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو بھی شخص پُرتشدد یا غیرقانونی سرگرمیوں کے ایجنڈے کو فروغ دینے میں ملوث پایا گیا، اُس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے مطابق افراد کے کے خلاف کے تحت
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں