Daily Ausaf:
2026-06-03@03:02:02 GMT

’’جے 10سی‘‘ اور بیچارہ رافیل

اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT

بھارتی پائلٹس اور ایروناٹیکل انجینئرز کی نااہلی نے پہلے روس کے سخوئی اور مگ طیاروں کی عالمی مارکیٹ کا بھٹہ بٹھایا، اور اب ان کی نااہلی، ہڈ حرامی اور نحوست کے سائے فرانس کے اسٹیٹ آف دی آرٹ لڑاکا طیارے رافیل پر پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ حالیہ پاک بھارت جھڑپوں میں جے 10سی نے رافیل کو ایسے خاک چٹائی جیسے شیرنی ہرن کو اپنے پنجوں میں دبوچ لیتی ہے۔ بھارتی فضائیہ، جو کبھی رافیل کو اپنی فضائی طاقت کا محور قرار دے رہی تھی، اب اسے اپنی سب سے بڑی رسوائی قرار دینے پر مجبور ہو چکی ہے۔رافیل کی یہ ناکامی نہ صرف بھارتی فضائیہ کی کمزور منصوبہ بندی کو عیاں کرتی ہے بلکہ فرانس کے عسکری ساز و سامان کی ساکھ کو بھی شدید دھچکا پہنچا گئی ہے۔ عالمی سطح پر رافیل کی مارکیٹ پر کاری ضرب لگی ہے۔ بھارت کی وجہ سے پہلے روس اپنے سخوئی اور مگ طیاروں کی گرتی ہوئی مارکیٹ سے نبرد آزما رہا، اب فرانس اپنے رافیل طیاروں کی ساکھ کو بچانے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہا ہے۔دوسری طرف، چین کے جے 10سی نے عالمی ہتھیاروں کی منڈی میں ہلچل مچا دی ہے۔ چین نے جے 10سی کی کامیابی کو بنیاد بنا کر اپنی عسکری مصنوعات کو مزید جارحانہ انداز میں پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔
عالمی سطح پر ہتھیاروں کی منڈی میں اس تبدیلی نے یورپی ممالک کے عسکری سازوسامان کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارتی پائلٹس کی یہ نااہلی ایک نئی عسکری تاریخ رقم کرے گی یا پھر بھارت کسی اور مغربی ہتھیار پر اربوں ڈالر خرچ کر کے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کرے گا؟پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگ نے نہ صرف خطے کے حالات کو شدید متاثر کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی کئی اہم پیغامات چھوڑے۔ اس جنگ بندی کے پس منظر میں کئی عوامل کار فرما تھے جن میں امریکہ اور سعودی عرب کا خفیہ دبائو، پاکستانی قیادت کی حکمت عملی اور فوجی ہتھیاروں کی برتری کئی اہم عوامل کار فرما ہیں۔سب سے پہلے، جنگ بندی کیسے ہوئی؟ جنگ کے ابتدائی لمحات میں ہی پاکستان نے عالمی قوتوں سے رابطے شروع کر دیئے تھے۔ وزیراعظم آفس، جی ایچ کیو اور وزارت خارجہ نے فوری طور پر امریکہ اور سعودی عرب سے رابطہ کیا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری مداخلت کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا۔ دونوں رہنمائوں نے بھارت پر دبائو ڈالا کہ وہ اشتعال انگیزی ترک کرے اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالے۔ اس دوران جنرل عاصم منیر نے ذاتی طور پر متعدد عالمی رہنمائوں سے رابطہ کیا اور پاکستان کے دفاعی موقف کو واضح کیا۔ایک وقت ایسا بھی آیا جب بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ جے شنکر نے بچائو بچا ئوکی صدائیں بلند کرتے ہوئے امریکی صدر اور سعودی ولی عہد کو متعدد بار فون کیا۔ بھارتی میڈیا نے بھی اس صورتحال کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ کیسے بھارتی قیادت نے اپنے ہی فیصلوں کو رد کیا اور عالمی دبائوکے آگے جھک گئی۔جنگ بندی کے دوران پاکستان نے اپنے جے 10سی جنگی طیاروں کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ بھارتی رافیل طیارے جو فرانس سے حال ہی میں حاصل کئے گئے تھے، جے 10 سی کے سامنے بے بس دکھائی دیئے۔ جے 10سی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے فتح میزائل نے بھی بھارتی فضائیہ اور بری فوج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور بار بار پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ جدید ٹیکنالوجی اور پاکستانی پائلٹس کی مہارت نے یہ ثابت کر دیا کہ صرف ہتھیاروں کی برتری نہیں بلکہ عسکری صلاحیت اور حکمت عملی بھی فیصلہ کن ہوتی ہے۔اس جنگ نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر دوبارہ زندہ کر دیا۔ بھارتی افواج کی کشمیر میں موجودگی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیا بھر میں اجاگر کیا گیا۔
پاکستان نے عالمی فورمز پر یہ موقف پیش کیا کہ کشمیر کا مسئلہ اس پورے تنازع کی اصل جڑ ہے۔ اس کے بعد کئی عالمی رہنمائوں نے بھارت پر دبائو ڈالا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے لئے آمادہ ہو۔جنرل عاصم منیر اس جنگ کے دوران ایک اہم عسکری رہنما کے طور پر ابھرے۔ نہ صرف انہوں نے فوج کو موثر حکمت عملی اپنانے کی ہدایت کی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا دفاعی موقف بھی پیش کیا۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف اپنی فضائی حدود کی حفاظت کی بلکہ دشمن کے منصوبوں کو ناکام بھی بنایا۔ اس صورتحال نے انہیں عالمی سطح پر ایک متحرک اور موثر فوجی لیڈر کے طور پر متعارف کرایا ہے۔عوامی سطح پر اس جنگ میں عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کا کردار بھی نمایاں رہا۔ عمران خان نے اپنے بیانات میں نہ صرف قوم کو متحد رکھنے کی کوشش کی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک موثر آواز بنے۔ انہوں نے عالمی رہنمائوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے دفاع کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ پی ٹی آئی کے کارکنان اور عوام نے غیرمشروط طور پر پاک فوج کی حمایت کی اور ہر محاذ پر ان کے ساتھ کھڑے رہے۔اس جنگ نے جہاں پاکستان کی عسکری قوت کو نمایاں کیا، وہیں عالمی سطح پر ایک پیغام بھی دیا کہ مسئلہ کشمیر کو اب مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار بھی غیر معمولی انداز میں متحرک رہے اور حکومتی کاوشوں کو بڑی جرات مندی سے آگے بڑھایا، یہ کہا جا سکتا ہے کہ رافیل کے مقابلے میں جے 10 سی کی کامیابی ہو یا فتح میزائلوں کی ناقابل شکست کارکردگی پاکستان کے انجینئرز، پائلٹس اور فوجی افسروں و جوانوں کا اس کامیابی میں کلیدی کردار رہا اور حکومت و عوام سب یکجان ہو کر پوری قوت سے برسر پیکار رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: عالمی سطح پر ہتھیاروں کی پاکستان نے نے عالمی

پڑھیں:

بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔

حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔

ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:

حربیار مری کے نام

ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار

کالی رات کا خوف ہے حربیار

پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر

ایک آگ کی طرح ہے حربیار

اسکو خبر ہے اس راستہ کا

آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار

حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے

ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار

حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان