Daily Ausaf:
2026-07-24@10:09:33 GMT

’’جے 10سی‘‘ اور بیچارہ رافیل

اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT

بھارتی پائلٹس اور ایروناٹیکل انجینئرز کی نااہلی نے پہلے روس کے سخوئی اور مگ طیاروں کی عالمی مارکیٹ کا بھٹہ بٹھایا، اور اب ان کی نااہلی، ہڈ حرامی اور نحوست کے سائے فرانس کے اسٹیٹ آف دی آرٹ لڑاکا طیارے رافیل پر پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ حالیہ پاک بھارت جھڑپوں میں جے 10سی نے رافیل کو ایسے خاک چٹائی جیسے شیرنی ہرن کو اپنے پنجوں میں دبوچ لیتی ہے۔ بھارتی فضائیہ، جو کبھی رافیل کو اپنی فضائی طاقت کا محور قرار دے رہی تھی، اب اسے اپنی سب سے بڑی رسوائی قرار دینے پر مجبور ہو چکی ہے۔رافیل کی یہ ناکامی نہ صرف بھارتی فضائیہ کی کمزور منصوبہ بندی کو عیاں کرتی ہے بلکہ فرانس کے عسکری ساز و سامان کی ساکھ کو بھی شدید دھچکا پہنچا گئی ہے۔ عالمی سطح پر رافیل کی مارکیٹ پر کاری ضرب لگی ہے۔ بھارت کی وجہ سے پہلے روس اپنے سخوئی اور مگ طیاروں کی گرتی ہوئی مارکیٹ سے نبرد آزما رہا، اب فرانس اپنے رافیل طیاروں کی ساکھ کو بچانے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہا ہے۔دوسری طرف، چین کے جے 10سی نے عالمی ہتھیاروں کی منڈی میں ہلچل مچا دی ہے۔ چین نے جے 10سی کی کامیابی کو بنیاد بنا کر اپنی عسکری مصنوعات کو مزید جارحانہ انداز میں پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔
عالمی سطح پر ہتھیاروں کی منڈی میں اس تبدیلی نے یورپی ممالک کے عسکری سازوسامان کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارتی پائلٹس کی یہ نااہلی ایک نئی عسکری تاریخ رقم کرے گی یا پھر بھارت کسی اور مغربی ہتھیار پر اربوں ڈالر خرچ کر کے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کرے گا؟پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگ نے نہ صرف خطے کے حالات کو شدید متاثر کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی کئی اہم پیغامات چھوڑے۔ اس جنگ بندی کے پس منظر میں کئی عوامل کار فرما تھے جن میں امریکہ اور سعودی عرب کا خفیہ دبائو، پاکستانی قیادت کی حکمت عملی اور فوجی ہتھیاروں کی برتری کئی اہم عوامل کار فرما ہیں۔سب سے پہلے، جنگ بندی کیسے ہوئی؟ جنگ کے ابتدائی لمحات میں ہی پاکستان نے عالمی قوتوں سے رابطے شروع کر دیئے تھے۔ وزیراعظم آفس، جی ایچ کیو اور وزارت خارجہ نے فوری طور پر امریکہ اور سعودی عرب سے رابطہ کیا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری مداخلت کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا۔ دونوں رہنمائوں نے بھارت پر دبائو ڈالا کہ وہ اشتعال انگیزی ترک کرے اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالے۔ اس دوران جنرل عاصم منیر نے ذاتی طور پر متعدد عالمی رہنمائوں سے رابطہ کیا اور پاکستان کے دفاعی موقف کو واضح کیا۔ایک وقت ایسا بھی آیا جب بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ جے شنکر نے بچائو بچا ئوکی صدائیں بلند کرتے ہوئے امریکی صدر اور سعودی ولی عہد کو متعدد بار فون کیا۔ بھارتی میڈیا نے بھی اس صورتحال کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ کیسے بھارتی قیادت نے اپنے ہی فیصلوں کو رد کیا اور عالمی دبائوکے آگے جھک گئی۔جنگ بندی کے دوران پاکستان نے اپنے جے 10سی جنگی طیاروں کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ بھارتی رافیل طیارے جو فرانس سے حال ہی میں حاصل کئے گئے تھے، جے 10 سی کے سامنے بے بس دکھائی دیئے۔ جے 10سی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے فتح میزائل نے بھی بھارتی فضائیہ اور بری فوج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور بار بار پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ جدید ٹیکنالوجی اور پاکستانی پائلٹس کی مہارت نے یہ ثابت کر دیا کہ صرف ہتھیاروں کی برتری نہیں بلکہ عسکری صلاحیت اور حکمت عملی بھی فیصلہ کن ہوتی ہے۔اس جنگ نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر دوبارہ زندہ کر دیا۔ بھارتی افواج کی کشمیر میں موجودگی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیا بھر میں اجاگر کیا گیا۔
پاکستان نے عالمی فورمز پر یہ موقف پیش کیا کہ کشمیر کا مسئلہ اس پورے تنازع کی اصل جڑ ہے۔ اس کے بعد کئی عالمی رہنمائوں نے بھارت پر دبائو ڈالا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے لئے آمادہ ہو۔جنرل عاصم منیر اس جنگ کے دوران ایک اہم عسکری رہنما کے طور پر ابھرے۔ نہ صرف انہوں نے فوج کو موثر حکمت عملی اپنانے کی ہدایت کی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا دفاعی موقف بھی پیش کیا۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف اپنی فضائی حدود کی حفاظت کی بلکہ دشمن کے منصوبوں کو ناکام بھی بنایا۔ اس صورتحال نے انہیں عالمی سطح پر ایک متحرک اور موثر فوجی لیڈر کے طور پر متعارف کرایا ہے۔عوامی سطح پر اس جنگ میں عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کا کردار بھی نمایاں رہا۔ عمران خان نے اپنے بیانات میں نہ صرف قوم کو متحد رکھنے کی کوشش کی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک موثر آواز بنے۔ انہوں نے عالمی رہنمائوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے دفاع کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ پی ٹی آئی کے کارکنان اور عوام نے غیرمشروط طور پر پاک فوج کی حمایت کی اور ہر محاذ پر ان کے ساتھ کھڑے رہے۔اس جنگ نے جہاں پاکستان کی عسکری قوت کو نمایاں کیا، وہیں عالمی سطح پر ایک پیغام بھی دیا کہ مسئلہ کشمیر کو اب مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار بھی غیر معمولی انداز میں متحرک رہے اور حکومتی کاوشوں کو بڑی جرات مندی سے آگے بڑھایا، یہ کہا جا سکتا ہے کہ رافیل کے مقابلے میں جے 10 سی کی کامیابی ہو یا فتح میزائلوں کی ناقابل شکست کارکردگی پاکستان کے انجینئرز، پائلٹس اور فوجی افسروں و جوانوں کا اس کامیابی میں کلیدی کردار رہا اور حکومت و عوام سب یکجان ہو کر پوری قوت سے برسر پیکار رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: عالمی سطح پر ہتھیاروں کی پاکستان نے نے عالمی

پڑھیں:

بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی

 بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔

وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026


بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔

وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔

مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔

مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔

ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت