مودی پاکستان سے نفرت کرتا ہے وہ انتقام لے گا، قوم نے متحد اور الرٹ رہنا ہے:عمران خان
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
راولپنڈی ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ مودی پاکستان سے نفرت کرتا ہے وہ انتقام لے گا، قوم نے متحد اور الرٹ رہنا ہے کیوں کہ جنگ میں لوگوں کا حوصلہ اور سپورٹ بہت اہم ہے۔
سابق وزیراعظم کی ہمشیرہ علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ آج ہم تینوں بہنوں کی عمران خان سے ملاقات ہوئی، ہم نے بتایا کہ وکلاءباہر کھڑے ہیں انہوں نے تین کو نہیں جانے دیا، ہم نے ان کو بتایا کہ بھارت سے جنگ میں پاکستانی قوم کیسے جوش اور جذبے کے ساتھ نڈر تھی، پاکستان کے دفاع میں سب پاکستانی متحد ہیں۔
انہوں نے بتایا عمران خان نے کہا کہ جنگ میں فوری ریسپانس بہت اہم ہوتا ہے، 60 فیصد دماغ کی گیم ہوتی ہے، حملے کا جواب فوج خود نہیں دیتی بلکہ کمانڈر انچیف صدر اور وزیراعظم کے حکم پر ایکشن کرتے ہیں، مودی پاکستان سے بہت نفرت کرتا ہے، اس وقت مودی سخت غصے میں ہوگا، وہ انتقام لے گا، قوم نے اسی طرح متحد اور الرٹ رہنا ہے، فوج اور لوگوں نے جس طرح جواب دیا ہے، سوشل میڈیا کی جنگ بھی پاکستان جیت گیا، مودی یہ برداشت نہیں کرے گا وہ معاشی اٹیک کرے گا، فالس فلیگ جیسے اقدامات مودی کرسکتا ہے۔
سابق وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ 26 ویں ترمیم نے ملک سے رول آف لاءختم کردیا ہے، جو بھی ووٹ دے رہے تھے اس ترمیم کے حق میں وہ آرڈر مان رہے تھے، سب نے مل کر پاکستان کا رول آف لاءختم کردیا، جو سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کی اجازت دے دی اس سے دنیا میں مذاق اڑے گا، اس پر آپ نے ملک کا تماشا بنایا ہے، اس ترمیم سے آپ نے ججز کو سرکاری ڈیپارٹمنٹ بنادیا ہے، ججز اور عدلیہ کی آزادی آپ نے لے لی ہے اب وہ آرڈر پر فیصلہ کریں گے۔
عمران خان نے کہا کہ ہم نے لوگوں کو تنہا نہیں کرنا لوگوں کو انصاف دینا ہے، 9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی بات کیوں نہیں کرتے؟ اس سے پتا چلے گا کہ سزائیں کیوں دی ہیں، چھپ چھپا کر ملٹری عدالت سے 10,10 سال سزائیں دے دی گئیں، میرے بھانجے نے پتلون اٹھائی تھی اس کو اٹھانے کی سزا 10 سال قید ہے؟ ملٹری کا کام لوگوں کو پروٹیکٹ کرنا ہے، ہمارے آئین میں سب سے بڑی اہمیت انسانیت کی ہے، ہمارے دین اور آئین میں انسانیت پہلے ہے یونیفارم بعد میں ہے۔
علیمہ خان کہتی ہیں کہ جب بات چیت ہوگی مودی کے سامنے کون بولے گا؟ اس لئے ہم نے عمران خان سے کہا کہ باہر آئیں مودی کے خلاف بیان دیں کیوں کہ وزیراعظم اور صدر تو بیان نہیں دے رہے لیکن ان کے کیسز نہیں لگائے جارہے، عمران خان نے چوتھی بات یہ کی کہ میں جنید اکبر پر چھوڑ دوں گا کہ وہ کون سی سیٹ رکھنا چاہتا ہے، انہوں نے کہا کہ میرا فوکس تنظیم سازی اور تحریک پر ہے، جنید اکبر 100 فیصد فوکس تحریک پر رکھیں۔
اسرائیلی فوج مکمل طاقت کے ساتھ غزہ میں داخل ہوگی، نیتن یاہو کا اعلان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔