خلیجی خطے کے دورے کا دوسرا مرحلہ، امریکی صدر ٹرمپ قطر پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خلیجی دورے کے دوسرے مرحلے میں قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ قبل ازیں، انہوں نے سعودی دارالحکومت ریاض میں امریکا اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ارکان کے سربراہی اجلاس سے خطاب میں خطے کے ساتھ امریکا کے اسٹریٹجک وابستگی اور شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کا اعادہ کیا۔
#ABD Başkanı Donald #Trump, Ortadoğu turunun ikinci ayağı olan #Katar‘a ulaştı#Qatar pic.
— Rudaw Türkçe (@RudawTurkce) May 14, 2025
ٹرمپ نے خلیجی تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کے موقع پر شام کے صدر احمد الشارع سے ملاقات کی۔
یہ منظر امریکی صدر کی جانب سے شام پر سے پابندیاں ہٹانے کے اعلان کے ایک دن بعد دیکھنے کو ملا جس سے دمشق میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔